امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا، امریکہ ایک امریکی خاتون شہری کی ہلاکت کی تحقیقات کر رہا ہے جنہیں مغربی کنارے میں احتجاج کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے سے اسرائیل کے ساتھ امریکہ کے تعلقات مزید کشیدہ ہو جانے کا خطرہ ہے۔
بلنکن نے اس بات کا جواب دینے سے انکار کر دیا کہ آیا اس قتل سے بائیڈن انتظامیہ کے اسرائیل کو ہتھیار بھیجنے کے عمل کا از سرِ نو جائزہ لیا جا سکتا ہے حالانکہ اسرائیلی افواج کا غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف جنگ سے نمٹنے کا طریقہ اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے ساتھ اس کی بدسلوکی شدید تنقید کی زد میں ہیں۔
بلنکن نے سینٹو ڈومنگو، جمہوریہ ڈومینیکن میں ایک بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا، "ہم وہ حقائق حاصل کرنے پر پوری توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ اور ہم جو بھی اقدامات کرتے ہیں وہ حقائق کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ اس لیے پہلی چیزیں پہلے کرتے ہوئے آئیے معلوم کریں کہ دراصل ہوا کیا۔ اور ہم اسی سے ضروری نتائج اخذ کریں گے۔"
خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ترک نژاد امریکی ایزینور ایزگی ایگی کو مغربی کنارے کے قصبے بیتا میں احتجاج کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ فوجیوں نے ایک ایسے فرد کی طرف گولی چلائی جسے انہوں نے تشدد کا "بڑا محرک" کہا جس سے بیتا کے قریب کارروائی کے دوران فوجیوں کے لیے خطرہ تھا۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ ان اطلاعات کا جائزہ لے رہی ہے کہ علاقے میں گولیاں چلنے کے نتیجے میں ایک غیر ملکی شہری کی موت واقع ہو گئی۔"
انقرہ میں حکومت کے ایک بیان کے مطابق ایگی کے پاس ترکی کی بھی شہریت تھی۔ ترکیہ نے اس ہلاکت کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا۔
وزارتِ خارجہ نے کہا، "انسانیت کے خلاف جرائم کرنے والے اسرائیلی حکام اور ان کی غیر مشروط حمایت کرنے والوں سے بین الاقوامی عدالتوں کے سامنے جواب طلبی کی جائے گی۔"