اسرائیل نے غزہ میں حراست میں لیے گئے اقوام متحدہ کے افراد کو رہا کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوام متحدہ کے زیر انتظام امدادی ایجنسی 'انروا' نے تصدیق کی ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے حراست میں لیے جانے والے اقوام متحدہ کے ملازمین کو رہا کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل پیر کے روز اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے غزہ کے شمال میں اقوام متحدہ کی گاڑیوں کے ایک قافلے کو حراست میں لے لیا ہے۔

اسرائیلی فوجی ترجمان کے مطابق حراست کا اقدام ان انٹیلجنس معلومات کی بنیاد پر کیا گیا جن میں کہا گیا تھا کہ قافلے میں کئی "مشتبہ فلسطینی" بھی موجود ہیں لہذا ان سے پوچھ گچھ کے لیے یہ اقدام کیا گیا۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ یہ قافلہ بچوں کے لیے پولیو ویکسین لے کر نہیں جا رہا تھا بلکہ اس کا مقصد اقوام متحدہ کے افراد کا تبادلہ تھا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ واقعے کے حقائق کے تعین کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ ادارے کے لیے اولین ترجیح ساتھیوں کی سلامتی ہے۔

ادھر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پیر کے روز اعلان کیا کہ ادارے نے غزہ میں کسی بھی فائر بندی کی نگرانی کی پیش کش کی ہے۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو میں گوتریس نے مزید کہا کہ "یہ خیال کہ اقوام متحدہ غزہ کے مستقبل میں کوئی کردار ادا کر سکتی ہے خواہ اراضی کا انتظام سنبھال کر یا امن فوج فراہم کر کے ،،، یہ غیر حقیقی ہے۔ اس لیے کہ اس بات کا امکان نہیں کہ اسرائیل اقوام متحدہ کا کوئی کردار قبول کرے گا"۔

یاد رہے کہ غزہ کی پٹی میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اقوام متحدہ اور اسرائیل کے درمیان تعلق بڑی حد تک کشیدگی کا شکار ہو گیا تھا۔

اقوام متحدہ میں اسرائیلی مندوب نے کئی مرتبہ ادارے کے علاوہ اس کے سکریٹری جنرل کو تنقید کا نشانہ بنایا جن سے اسرائیل مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کر چکا ہے۔

اسی طرح چند ماہ قبل اسرائیلی وزیر خارجہ یسرائیل کیتس نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس پر الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے حماس تنظیم کی خلاف ورزیوں کے بارے میں رپورٹ پر پردہ ڈالا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں