روس کو ایرانی بیلیسٹک میزائل کا ملنا یورپ کے لیے خطرناک ہے : انٹونی بلنکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ روس کا ایران سے بیلسٹک میزائل حاصل کرنا اور ان میزائلوں کو یوکرین کے خلاف استعمال کرنا یورپی یونین کے لیے سخت خطرے کی گھنٹی ہے۔ وہ منگل کے روز ماسکو اور تہران کے درمیان بڑھتے ہوئے جنگی تعاون کے بارے میں بات کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا یہ یورپی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہو سکتا ہے۔ بلنکن نے یہ گفتگو لندن میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کی ہے۔

نیوز کانفرنس کے بعد وہ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کے ساتھ یوکرین کے دورے پر جا رہے ہیں ۔ دونوں اہم ملکوں کے وزرائے خارجہ کا یہ مشترکہ دورہ یوکرین غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا نجی طور پر ان کے ملک نے ایران کو خبردار کر دیا ہے کہ جس طرح وہ روس کو بیلسٹک میزائل دے رہا ہے ، اس سے کشیدگی میں ڈرامائی اضافہ ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورت میں مزید نئی پابندیاں بھی نافذ کی جا سکتی ہیں۔

بلنکن کا کہنا تھا کہ روس اس وقت ایران سے بیلیسٹک میزائل بحری جہازوں سے ریسیو کر رہا ہے اور امکان ہے کہ وہ یوکرین کے خلاف جنگ میں انہیں استعمال کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ انٹیلیجنس رپورٹ جو امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ شیئر کی ہیں جو دنیا بھر میں رہتے ہیں ، اس میں بھی اسی طرح کی معلومات ہیں کہ ایران سے بیلیسٹک میزائل کس طرح روس پہنچ رہے ہیں اور کس طرح ایران نے درجنوں روسی فوجیوں کو ان میزائلوں کے استعمال کی تربیت دی یے۔

ان کا کہنا تھا ان بیلیسٹک میزائل میں 360 فتح میزائل شامل ہیں جو قریبی ٹارگٹ کو ہٹ کرتے ہیں اور ان کا اثر کرنے کا فاصلہ 75 کلومیٹر ہے۔

روسی وزارت دفاع کے نمائندے یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کے اور ایران کے درمیان ایرانی ساختہ فتح 360 میزائل کا معاہدہ دسمبر میں ہو جائے گا۔ یہ بات بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' نے پچھلے ماہ رپورٹ کی تھی۔

تاہم پیر کے روز ایک ایرانی ذمہ دار نے اس بات کی تردید کی ہے اور کہا کہ جو لوگ یہ باتیں کر رہے ہیں وہ نفسیاتی جنگ کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں۔

کریملن کے ترجمان ڈمیٹری پیسکوف نے ان رپورٹس کی تصدیق کرنے سے انکار کیا اور رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ روس ایران کے ساتھ مختلف معاملات میں تعاون کر رہا ہے۔ حتیٰ کہ ان میں بہت حساس امور بھی شامل ہیں۔

یوکرین جنگ کے ڈھائی سال گزرنے کے بعد یوکرینی افواج اب روس کے خلاف حملے کرنے کی پوزیشن میں آئی ہے اور پیش قدمی رکر ہی ہے۔ جیسا کہ پچھلے ماہ یوکرین نے روسی علاقے میں جا کر بڑی فوجی کارروائیاں کی ہیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ یوکرین اس طرح روس پر آگے بڑھ کر حملے کر رہا ہے ۔ ایران کے یہ میزائل امکانی طور پر روس اس طرح کے اہداف کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں