آئل، گیس کی سمگلنگ سے حزب اللہ کی مدد کا الزام، لبنانی نیٹ ورک پر امریکی پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے بدھ کے روز لبنان کے ایک نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جس پر لبنانی حزب اللہ گروپ کی مالی مدد کے لیے تیل اور مائع پٹرولیم گیس کی سمگلنگ کا الزام لگایا گیا۔ پابندیوں میں تین افراد، پانچ کمپنیوں اور دو بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے بارے میں امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ حزب اللہ کی فنانسنگ ٹیم کے ایک سینئر رہنما کی نگرانی میں تھے اور وہ شام کو غیر قانونی مائع پیٹرولیم گیس کی ترسیل سے حاصل ہونے والے منافع کو گروپ کے لیے آمدنی پیدا کرنے میں مدد کے لیے استعمال کرتے تھے۔

قائم مقام امریکی وزارت خزانہ برائے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس بریڈلی سمتھ نے ایک بیان میں کہا کہ حزب اللہ اسرائیل پر میزائل داغنا جاری رکھے ہوئے ہے اورعلاقائی عدم استحکام کو ہوا دے رہی۔ یہ نیٹ ورک جنوبی لبنان کے دسیوں ہزار بے گھر افراد سمیت مختلف لوگوں کی دیکھ بھال کا دعویٰ کرتا ہے لیکن ان کی دیکھ بھال سے قبل تشدد کی فنڈنگ کو آگے بڑھا رہا ہے۔

یاد رہے مئی میں امریکی محکمہ خزانہ نے لبنانی حزب اللہ گروپ سے منسلک ایک ایکسچینج کمپنی کے مالک حسن مقلد اور ان کی کمپنی کی مدد کرنے والے پانچ افراد پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

اس وقت کے بیان میں ٹریژری انڈر سیکرٹری برائے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس برائن نیلسن کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ حزب اللہ بظاہر جائز کاروباری سرمایہ کاری اور کلیدی سہولت کاروں پر انحصار کر رہی ہے تاکہ گروپ کی کارروائیوں کے لیے آمدنی حاصل کی جا سکے ۔ ان کارروائیوں میں اسرائیل کی شمالی سرحد پر حزب اللہ کے غیر مستحکم کرنے والے حملے بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں