تنازعات کے حل کے لیے بات چیت کے لیے تیار، دھمکی مسترد کرتے ہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ تہران تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری کے لیے تیار ہے لیکن امریکا اور تین یورپی طاقتوں کی جانب سے ایرانی ہوا بازی کے شعبے پر پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد دھمکیوں اور دباؤ کو مسترد کرتا ہے۔

عراقچی نے مزید کہا کہ ان کا ملک پوری طاقت کے ساتھ اپنا راستہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اگرچہ ہم ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے بات چیت کے لیے تیار رہے ہیں۔ تاہم بات چیت کی بنیاد باہمی احترام پر ہونی چاہیے نہ کہ دھمکیوں اور دباؤ پر۔

روس کو میزائل فراہم نہیں کیے

عراقچی نے یہ بھی کہا کہ تہران نے روس کو کوئی بیلسٹک میزائل فراہم نہیں کیا ہے ۔ ایران پر امریکہ اور تین یورپی طاقتوں کی طرف سے عائد پابندیاں کوئی مسئلہ حل نہیں کریں گی۔ عراقچی کا یہ بیان یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔ بوریل نے کہا تھا کہ بلاک ایرانی ایوی ایشن سیکٹر پر نئی پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہا ہے۔ یہ رپورٹوں کے جواب میں کیا جارہا جن میں کہا گیا تھا کہ تہران نے روس کو یوکرین کے خلاف جنگ میں بیلسٹک میزائل فراہم کیے ہیں۔ منگل کے روز امریکہ، جرمنی، برطانیہ اور فرانس نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کردیں۔ ان پابندیوں میں قومی ایرانی ایئرلائنز کے خلاف اقدامات بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں