ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ تہران تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری کے لیے تیار ہے لیکن امریکا اور تین یورپی طاقتوں کی جانب سے ایرانی ہوا بازی کے شعبے پر پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد دھمکیوں اور دباؤ کو مسترد کرتا ہے۔
عراقچی نے مزید کہا کہ ان کا ملک پوری طاقت کے ساتھ اپنا راستہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اگرچہ ہم ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے بات چیت کے لیے تیار رہے ہیں۔ تاہم بات چیت کی بنیاد باہمی احترام پر ہونی چاہیے نہ کہ دھمکیوں اور دباؤ پر۔
روس کو میزائل فراہم نہیں کیے
عراقچی نے یہ بھی کہا کہ تہران نے روس کو کوئی بیلسٹک میزائل فراہم نہیں کیا ہے ۔ ایران پر امریکہ اور تین یورپی طاقتوں کی طرف سے عائد پابندیاں کوئی مسئلہ حل نہیں کریں گی۔ عراقچی کا یہ بیان یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔ بوریل نے کہا تھا کہ بلاک ایرانی ایوی ایشن سیکٹر پر نئی پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہا ہے۔ یہ رپورٹوں کے جواب میں کیا جارہا جن میں کہا گیا تھا کہ تہران نے روس کو یوکرین کے خلاف جنگ میں بیلسٹک میزائل فراہم کیے ہیں۔ منگل کے روز امریکہ، جرمنی، برطانیہ اور فرانس نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کردیں۔ ان پابندیوں میں قومی ایرانی ایئرلائنز کے خلاف اقدامات بھی شامل ہیں۔