"کملا ہیرس کو اسرائیل کے خلاف لفظوں کی سختی کے بجائے کچھ عملی اقدامات کرنا ہوں گے'
سعودی عرب کے شہزادہ ترکی الفیصل نے امریکی صدارتی انتخاب کے قریب آجانے کے پس منظر میں کہا ہے ' کملا ہیرس سے امید ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کی سفارت کاری میں نئے امریکی موقف کی اشد ضرورت کو محسوس کریں گی۔ ' وہ ان کے ممکنہ طور صدر منتخب ہونے کے تناظر میں بات کر رہے تھے۔
شہزادہ ترکی الفیصل نے اس امید کا اظہار ' العربیہ' کے لیے اپنے خصوصی انٹرویو کے دوران کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا ' توقع ہے کملا ہیرس صرف سخت الفاظ کے اظہار سے نیتن یاہو کو پیچھے ہٹنے پر راضی نہیں کریں گی۔ کیونکہ نیتن یاہو کو جو چیز پیچھے ہٹنے پر مجبور کر سکتی ہے وہ سخت الفاظ نہیں ہیں بلکہ امریکہ کے ہتھیاروں اور مالی امداد کو روکنے جیسے اقدامات ہیں۔'
شہزادہ ترکی نے فلسطین میں اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کو روکنے میں بین الاقوامی سفارتی ناکامیوں پر تنقید کی۔
انہوں نے امریکہ کی موجودہ نائب صدر اور صدارت کے لیے ڈیموکریٹ امیدوار کملا ہیرس کے بارے میں کہا ' فلسطینیوں کے بارے میں ان کے انداز اور الفاظ سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ کچھ اقدام کرنے پر آمادہ ہیں۔'
'العربیہ ' کی ہیڈلی گیمبل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا' غزہ پر اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے امریکہ اور عالمی برادری کو چاہیے تھا کہ اسرائیل کو اس کے کیے کی سزا دینے کے لیے مخصوص اقدامات کریں۔'
شہزادہ ترکی نے عراق اور افغانستان میں امریکہ کی طویل مصروفیات کی وجہ سے امریکی رائے عامہ میں بدلتی ہوئی حرکیات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا' بیرون ملک فوجی اخراجات سے امریکہ میں قومی جذبات بیزاری لیے ہوئے ہیں۔' اس لیے یہ صورت حال امریکہ میں لوگوں کو اس کی مداخلت پر دھکیلنے کا مطالبہ کرنے کا سبب بنا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اسرائیلی جارحیت روکنے کی خاطر امریکہ میں لوگوں کو اس مداخلت کے لیے اظہار کرنا پڑا ۔
شہزادہ ترکی الفیصل نے برطانیہ کی حکومت کی طرف سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمد کے 350 میں سے 30 کے لائسنس معطل کرنے کے حالیہ اقدام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا اعلان بالفور اور اس کے بعد کے پالیسی فیصلوں کے ذریعے خطے کی تقدیر و تشکیل میں برطانیہ کے کردار کے پیش نظر یہ اقدامات انتہائی ناکافی ہیں۔
انہوں نے کہا کل، یہاں برطانوی اداروں میں سے ایک میں ایک گفتگو میں، میں نے تجویز پیش کی کہ وہ اتنے برسوں کے بعد تو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلیں، خاص طور پر برطانیہ جب کے ابتدا سے بہت ساری چیزوں کا ذمہ دار ہے۔ اعلان بالفور اور اس کے بعد جو اقدامات کیے گئے برطانیہ کو اس حوالے سے فلسطینی ریاست کےلیے ایک قدم آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
شہزادہ ترکی نے صورتحال پر اثرانداز ہونے کے لیے خلیجی ریاستوں کے لیے تیل جیسے روایتی پاور لیور یعنی تیل کے حوالے سے کردار پر بھی بات کرتے ہوئے اس خیال کو مسترد کیا کہ 1970 کی دہائی کی پابندیوں کی طرح کے اقدامات آج بھی موثر ہو سکتے ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ آج کل، بدقسمتی سے، تیل کے ہتھیار کو اس طرح استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اب تیل کی منڈی کے حالات بدل چکے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اب عالمی سطح پر توانائی کی جہتیں اور حالتیں بدل رہی ہیں۔