اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان کی پیرا ملٹری فورسز ( آر ایس ایف ) سوڈانی شہر الفاشیر پر چڑھائی کرنے والی ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ 'آر ایس ایف' کے رہنما سے کہا گیا ہے کہ وہ اس حملے کو فوری طور پر روک دے ۔ ترجمان نے یہ بات ہفتے کے روز کہی ہے۔
ترجمان کے مطابق سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یہ تصادم دارفو کے سارے مغربی علاقے کی طرف پھیل جائے گا۔ سیکرٹری جنرل نے 'آر ایس ایف' کے کمانڈر لیفٹیننٹ محمد حمدان سے کہا ہے کہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور اپنے زیر کمان 'آر ایس ایف' کو فوری طور پر حملہ روکنے کا حکم دیں۔
ترجمان سٹیفن دوجارک نے کہا یہ بے حسی کی بات ہے کہ سوڈان کے دونوں فریق جنگ بندی کے لیے اپیلوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ واضح رہے سوڈان کی مسلح افواج اور پیرا ملٹری فوج کے درمیان جنگ کا آغاز اپریل 2023 میں ہوا تھا، تب سے ملک میں ایک تصادم کی کیفیت ہے۔ اس تشدد کے بھڑکنے کی وجہ سے لوگوں کی سب سے بڑی تعداد کو اس وقت سوڈان میں ہی نقل مکانی کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ نے دونوں اطراف کو باور کرایا ہے کہ تصادم کو مزید بڑھانے سے ملک میں مزید پھیل جائے گا۔ دوسری جانب سلیوان نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے ان ملکوں کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے جو جو لڑائی کو بڑھانے کی کوشش میں ہیں بجائے اس کے کہ کوئی حل نکالنے میں مدد کریں۔
سلیوان کے بقول ان کی کوشش سوڈان کو خوفناک تباہی کے راستے سے ہٹا کر مکمل دوسرے راستے پر لانا ہے۔ اس کے لیے بھر پور اور انتہائی سنجیدہ نوعیت کی سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔ یہ کوشش کئی کھلاڑیوں کے ساتھ کرنے کی ہے۔
خیال رہے جون 2024 میں ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا تھا کہ 18 لاکھ کی آبادی کے شہر الفاشیر کا محاصرہ ختم کیا جائے اور دارفو کے اس پورے علاقے میں جنگ ختم کی جائے۔
نیز الفاشیر کے شہریوں کو جن بھی فوجیوں سے خطرہ ہے ان تمام فوجیوں کو ان کی جگہوں سے پیچھے بلا لیا جائے۔ دارفور میں سنہ 2000 کے شروع میں خانہ جنگی کی ایک لہر میں 300000 سوڈانی مارے گئے تھے۔