لبنان پر اسرائیلی حملوں سے شرقِ اوسط میں عدم استحکام کا خطرہ ہے: کریملن

"تباہی روکنے کے لیے بین الاقوامی اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے تیار ہیں": ترجمان روسی وزارتِ خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

کریملن نے منگل کو خبردار کیا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں سے شرقِ اوسط کے مکمل طور پر غیر مستحکم ہونے اور وہاں تنازع کے وسعت اختیار کرنے کا امکان ہے۔

اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے اہداف پر حملہ کیا اور ایران کے حمایت یافتہ گروپ نے منگل کے روز شمالی اسرائیل میں فوجی تنصیبات پر حملہ کیا جس سے ایک دن قبل حزب اللہ کے اہداف پر اسرائیلی فضائی حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسرائیلی حملوں کے بارے میں سوال پر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ایک کانفرنس کال میں نامہ نگاروں کو بتایا: "جب بات تنازعہ کی توسیع اور خطے کے مکمل عدم استحکام کی ہے تو یہ ایسا واقعہ ہے جو ممکنہ طور پر انتہائی خطرناک ہے۔ یقیناً یہ ہمارے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔"

ایک الگ بیان میں روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے کہا کہ ماسکو نے لبنان پر "اندھا دھند" حملوں کی مذمت کی ہے جس میں شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔

زاخارووا نے کہا، "صورتِ حال مکمل طور پر قابو سے باہر ہونے سے پہلے تشدد کی لہر کو روکنا فوری ضرورت ہے۔ ہم دشمنی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔"

نیز انہوں نے کہا، "ہمیں شرقِ اوسط کو وسیع پیمانے پر ہونے والے ایک مسلح تصادم کا شکار ہونے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے جس کے تباہ کن نتائج لامحالہ خطے اور اس سے باہر کے ہر فرد کو متأثر کریں گے۔ ہم ایسے تباہ کن منظر نامے کو روکنے کے لیے بین الاقوامی اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے تیار ہیں۔"

روس نے یوکرین میں اپنی "خصوصی فوجی کارروائی" کے بعد سے حزب اللہ کے سرپرست ایران کے ساتھ تعلقات مستحکم کیے ہیں۔ اس نے غزہ پر اسرائیل کی بمباری اور ہلاک شدہ شہریوں کی تعداد کے تناسب پر سوال اٹھایا ہے جس سے اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں