امریکی وزارت خارجہ نے لبنان میں اسرائیل کے زمینی حملے کے لیے اپنی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کے ایک سینئر ذمے دار نے کہا ہے کہ "امریکا یہ نہیں سمجھتا کہ لبنان پر زمینی حملہ خطے میں کشیدگی کم کرنے میں کوئی کردار ادا کرے گا۔ واشنگٹن اسرائیل اور لبنانی تنظیم حزب اللہ کے درمیان لڑائی کو روکنے کے لیے سفارتی حل کے واسطے بہت دنوں سے کام کر رہا ہے ... یہ بات اہم ہے کہ تمام لوگ اسرائیل کی تیاریوں کو سنجیدگی سے لیں"۔
دوسری جانب برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے پیر کے روز لبنان اور اسرائیل میں راکٹ اور فضائی حملوں کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکت پر "گہری تشویش" کا اظہار کیا ہے۔
لیمی نے "ایکس" پلیٹ فارم ہر اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ "میں ایک بار پھر دونوں جانب سے فائر بندی کے لیے اپنی دعوت کو دہرا رہا ہوں اور آج رات گروپ سیون کے وزراء سے ملاقات میں بھی میں اسی کو باور کراؤں گا"۔
لبنان میں حکام نے بتایا ہے کہ پیر کے روز ملک کے مختلف علاقوں پر سیکڑوں اسرائیلی حملوں میں 492 افراد ہلاک ہو گئے جن میں 35 بچے شامل ہیں۔ تقریبا ایک سال قبل سرحد کی دونوں جانب لڑائی کے آغاز کے بعد سے اب تک یہ لبنان پر ہونے والی سب سے شدید فضائی بم باری ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے باور کرایا ہے کہ ان حملوں میں شدت آئے گی اور آنے والے دنوں میں یہ جاری رہیں گے۔
واضح رہے کہ خطے میں وسیع جنگ کے حوالے سے اقوام متحدہ ، عالمی برادری اور عرب دنیا کی جانب سے انتباہات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔