بھارت کا عدالتِ عظمیٰ سے ازدواجی عصمت دری کے لیے سزائیں سخت نہ کرنے کا مطالبہ
شوہر اور ایک اجنبی کی طرف سے زبردستی جنسی عمل کو برابر قرار نہیں دیا جا سکتا: دہلی ہائی کورٹ کا سابقہ فیصلہ
ہندوستان کی حکومت نے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے کہا ہے کہ وہ ازدواجی عصمت دری کے خلاف مجرمانہ سزائیں سخت نہ کرے۔ یہ بات ایک زیرِ سماعت مقدمے کے دوران سامنے آئی جو اس عمل کو غیر قانونی قرار دینے کی مہم چلانے والوں نے دائر کیا۔
19ویں صدی میں ہندوستان کے برطانوی نوآبادیاتی دور میں متعارف کردہ پینل کوڈ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ "مرد کی طرف سے بیوی کے ساتھ جنسی عمل عصمت دری نہیں ہے۔"
وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت نے جولائی میں ایک ترمیم شدہ قانون نافذ کیا جس میں یہ شق برقرار رکھی گئی ہے حالانکہ کارکنوں کی طرف سے ازدواجی عصمت دری کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے عدالتی چیلنج عشروں سے جاری ہے۔
ہندوستان کی وزارتِ داخلہ نے جمعرات کو سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کیا جس میں کہا گیا، اگرچہ ازدواجی عصمت دری کے نتیجے میں "تعزیزی سزائیں" ہونی چاہئیں لیکن قانونی نظام کو اس معاملے میں شادی کے بغیر ہونے والی عصمت دری سے زیادہ نرمی سے پیش آنا چاہیے۔
دی انڈین ایکسپریس اخبار کے مطابق حلف نامے میں کہا گیا، "ایک شوہر کو یقیناً اپنی بیوی کی رضامندی کی خلاف ورزی کرنے کا کوئی بنیادی حق نہیں ہے۔ البتہ 'عصمت دری' کی نوعیت کا جرم جس طرح ہندوستان میں تسلیم کیا جاتا ہے، اس میں شادی کے ادارے اور ازدواجی تعلق کو شامل کرنا حد سے زیادہ سخت سمجھا جا سکتا ہے۔"
ہندوستان کا موجودہ پینل کوڈ عصمت دری کے مرتکب افراد کے لیے کم از کم 10 سال کی سزا کا حکم دیتا ہے۔
حکومت کے بیان میں کہا گیا کہ ازدواجی عصمت دری کو موجودہ قوانین میں مناسب طریقے سے حل کیا گیا جن میں 2005 کا ایک قانون شامل ہے جو خواتین کو گھریلو تشدد سے بچاتا ہے۔
یہ قانون جنسی زیادتی کو گھریلو تشدد کی ایک شکل کے طور پر تسلیم کرتا ہے لیکن مرتکب افراد کے لیے کوئی مجرمانہ سزا تجویز نہیں کرتا۔
تعزیری ضابطے کا ایک اور حصہ ایک شوہر کے اپنی بیوی کے خلاف "ظلم" کے طور پر بیان کردہ عمل پر تین سال تک قید کی سزا دیتا ہے۔
حکومت کے 2019 سے 2021 کے درمیان کیے گئے تازہ ترین قومی خاندانی صحت سروے کے مطابق 18-49 سال کی عمر کی چھے فیصد شادی شدہ بھارتی خواتین نے ازدواجی جنسی تشدد کی اطلاع دی ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ دنیا کے گنجان آباد ترین ملک میں 10 ملین سے زیادہ خواتین اپنے شوہروں کے ہاتھوں جنسی تشدد کا شکار رہی ہیں۔
سروے کے مطابق تقریباً 18 فیصد شادی شدہ خواتین یہ بھی محسوس کرتی ہیں کہ اگر ان کے شوہر جنسی تعلقات چاہتے ہوں تو وہ انکار نہیں کر سکتیں۔
ہندوستان کے بیشتر حصوں میں طلاق ممنوع ہے جہاں ہر 100 میں سے صرف ایک شادی ختم ہوتی ہے اور اکثر اس کی وجہ ناخوش شادیاں برقرار رکھنے کے لیے خاندانی اور سماجی دباؤ ہوتا ہے۔
ہندوستان کے فوجداری نظامِ انصاف میں دیرینہ جمع شدہ مقدمات کا مطلب ہے کہ بعض کے حل ہونے میں عشروں کا وقت لگتا ہے اور ازدواجی عصمت دری کو جرم قرار دینے کے لیے دباؤ ڈالنے کے معاملے میں پیش رفت تکلیف دہ حد تک سست ہے۔
مئی 2022 میں دہلی ہائی کورٹ میں دو ججوں کے بنچ نے الگ الگ فیصلہ جاری کیا جس کے بعد اس مقدمے کو سپریم کورٹ بھیج دیا گیا۔
اس مقدمے میں ایک جج نے فیصلہ دیا کہ اگرچہ شوہر کے اپنی بیوی کے ساتھ زبردستی جنسی تعلقات قائم کرنے کو "نامنظور" کیا جا سکتا ہے لیکن اسے "کسی اجنبی کی طرف سے زیادتی کرنے کے برابر قرار نہیں دیا جا سکتا۔"