خصوصی انٹرویو:سابق سکاٹش وزیرِاعظم کاغزہ میں فوری جنگ بندی،یاہوکی گرفتاری کا مطالبہ

غزہ جنگ کے ساتھ ساتھ ایلون مسک سے تنازعہ بھی زیرِ بحث آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

سابق سکاٹش وزیرِ اعظم حمزہ یوسف نے غزہ میں فوری جنگ بندی اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے

اس تنازعہ سے اپنے ذاتی تعلق کے بارے میں بات کی جن کے خاندان کے متعدد افراد محاصرہ زدہ انکلیو میں لاپتہ ہیں۔

جی این ٹی پر میزبان روزانا لاک ووڈ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں یوسف جن کی اہلیہ کا خاندان غزہ میں ہے، نے اسرائیلی حکومت کے "مظالم" کی مذمت کی اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے ذریعے احتساب پر زور دیا۔

غزہ میں پھنسا ہوا خاندان

اس سال کے اوائل تک سکاٹ لینڈ کے پہلے وزیر کے طور پر خدمات انجام دینے والے یوسف نے انکشاف کیا کہ ان کی اہلیہ کے خاندان کے بعض افراد غزہ میں لاپتہ ہیں۔

یوسف نے العربیہ نیوز کو بتایا، "بدقسمتی سے میری اہلیہ کی کزن سیلی، ان کے چار بچوں اور شوہر کے بارے میں ہمیں میرے خیال میں پانچ دن سے کوئی خبر نہیں ملی۔ وہ اپنے ولا میں تھے اور انہیں محفوظ علاقے میں جانے کے لیے کہا گیا تھا۔۔ جبکہ غزہ میں محفوظ علاقہ نام کی یقیناً کوئی جگہ نہیں ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "ہم ان کی حفاظت کے لیے دعا گو ہیں۔ لیکن یہ صرف ایک کہانی ہے۔ یقیناً ایسے لاکھوں لوگ اور ہیں اور اسی لیے دنیا بھر میں لاکھوں خاندان غزہ میں اپنے عزیزوں کے لیے پریشان ہیں۔"

جنگ بندی، آئی سی سی سے کارروائی کا مطالبہ

"قتلِ عام اور غزہ کے معصوم لوگوں کے قتل" کو روکنے کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے یوسف نے غزہ میں فوری جنگ بندی کی پرزور وکالت کی۔

اگرچہ انہوں نے کہا کہ "حماس کے سات اکتوبر کے خوفناک جرائم کا کوئی جواز نہیں" لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا، "غزہ کے معصوم شہریوں، معصوم بچوں، معصوم مردوں اور معصوم عورتوں کے قتل کا (بھی) کوئی جواز نہیں۔"

انہوں نے کہا، "یقیناً جنگ بندی ہونی چاہیے۔ ہمیں اس جنگ بندی کی ضرورت ہے تاکہ یقیناً باقی یرغمالی رہا ہوں۔ اور پھر انسانی امداد کو غزہ تک مکمل طور پر بلا تعطل رسائی حاصل ہو۔"

سابق وزیر اعظم نے بین الاقوامی فوجداری عدالت سے ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی مطالبہ کیا جو ان کے خیال میں جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ یوسف نے انکشاف کیا کہ غزہ سے فرار ہونے والے ان کے افرادِ خانہ آئی سی سی کو ثبوت جمع کرانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "خود آئی سی سی، اس میں شامل پراسیکیوٹرز عینی شاہدین کو اپنے پاس بلا رہے ہیں۔" انہوں نے اپنی ساس کا ایک واقعہ بیان کیا جنہوں نے غزہ میں ایک دھماکے کے بعد دیکھا کہ ایک آٹھ سالہ بچی کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔

انہوں نے مزید کہا، "یہ ان کئی چیزوں میں سے صرف ایک مثال ہے جو میری ساس نے دیکھی ہیں اور اس لیے یہ درست ہے کہ ہم یہ گواہی مرتب کریں، اس کی جانچ اور اسے بین الاقوامی فوجداری عدالت میں پیش کریں۔"

نیتن یاہو کی گرفتاری کے وارنٹ

یوسف نے مزید کہا کہ اگر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو برطانیہ میں داخل ہوں تو آئی سی سی کے ممکنہ فیصلوں کی بنیاد پر گرفتار کیا جائے۔

یوسف نے زور دیا، "اگر بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ججوں نے آئی سی سی کی طرف سے گرفتاری کا وارنٹ دیا ہے تو اس پر لازمی عمل کیا جائے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو برطانیہ کی سرزمین پر اتریں تو یہ ضروری ہے کہ انہیں فوری طور پر گرفتار کر لیا جائے۔"

سابق سکاٹش رہنما نے بین الاقوامی قانون کے مساوی اطلاق کی اہمیت پر زور دیا، قطع نظر اس کے کہ ملزم کوئی "دہشت گرد تنظیم ہے یا وہ کسی حکومت کے سربراہ ہیں۔"

دو ریاستی حل

یوسف نے دو ریاستی حل پر بھی زور دیا لیکن اس بات پر تنقید کی جسے وہ بین الاقوامی برادری کے نکتۂ نظر میں منافقت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

انہوں نے العربیہ نیوز کو بتایا، "میں دو ریاستی حل دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں دو ریاستی حل پر یقین رکھتا ہوں یعنی ایک قابلِ عمل، محفوظ فلسطینی ریاست کے ساتھ ساتھ ایک محفوظ اسرائیل۔" البتہ انہوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے لیکن فلسطین کو تسلیم نہ کرنے پر برطانیہ سمیت حکومتوں پر تنقید کی۔

انہوں نے کہا، "کئی حکومتوں، مجھے ڈر ہے کہ برطانوی حکومت بھی اس میں شامل ہے، ان کی منافقت یہ ہے کہ وہ ایک ریاست کو تسلیم کرتے ہیں اس لیے وہ اسرائیل کو تسلیم کرتے ہیں لیکن فلسطین کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ یہ ناقابلِ جواز ہے۔"

آئرلینڈ، ناروے اور سپین کے حالیہ اقدامات کی مثال پیش کرتے ہوئے انہوں نے برطانیہ کی حکومت سے فلسطین کو فوری طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔

امن کے لیے اہم موڑ

جاری تنازعات کے باوجود یوسف نے امن کے امکانات کے بارے میں امید ظاہر کی اور تجویز کیا کہ غزہ کی صورتِ حال کے بارے میں عالمی آگاہی مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔

انہوں نے کہا، "میں دراصل سوچتا ہوں کہ یہ شاید ایک اہم موڑ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دنیا بھر میں بہت زیادہ لوگ جو فلسطین کے لوگوں پر قبضے کے تحت ہونے والے ہولناک مظالم کے بارے میں بہت زیادہ نہیں جانتے تھے، اب بیدار ہو چکے ہیں۔"

یوسف نے "فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے اور عالمی سطح پر تسلیم کرنے کی ناگزیریت" کی پیش گوئی کی لیکن اس بات پر زور دیا کہ یہ عمل فوری ہونا چاہیے۔

برطانیہ اور امریکہ کی پالیسی پر تنقید

سابق سکاٹش رہنما نے تنازعہ کے حوالے سے برطانیہ اور امریکہ دونوں کی پالیسیوں پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے برطانیہ کی حکومت کی اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا اور اگلے امریکی صدر پر زور دیا کہ وہ خطے کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر میں انسانیت اور بین الاقوامی قانون کو ترجیح دیں۔

یوسف نے اصرار کیا، "برطانیہ کی حکومت ہتھیاروں کی فروخت جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیل کو اسلحے کی فروخت پر مکمل پابندی، مکمل معطلی ہونی چاہیے۔" انہوں نے مزید کہا کہ امریکی عوام اپنی حکومت کے بجائے تنازعات کے حوالے سے امریکی پالیسی میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔

ایلون مسک سے تنازعہ

بنیادی طور پر غزہ کے تنازعے پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے یوسف نے دیگر بین الاقوامی مسائل پر بھی توجہ دی جن میں ایکس (سابقہ ٹویٹر) کے مالک ایلون مسک کے ساتھ ان کا حالیہ سوشل میڈیا تنازعہ بھی شامل ہے جس میں مسک کے تبصروں کے بعد انہوں نے ارب پتی کو "خطرناک" قرار دیا۔ جولائی میں برطانیہ کے قصبے ساؤتھ پورٹ میں وسیع پیمانے پر چاقو زدنی کے واقعات مسلمانوں اور تارکینِ وطن کو نشانہ بنانے والے فسادات اور نسل پرستانہ حملوں کی وجہ بن گئے تھے جس پر یہ تنازعہ ہوا۔

یوسف نے مسک پر سفید فام بالادستی کی حمایت کرنے اور غلط معلومات کو فروغ دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا، "اگر وہ اپنے اربوں کے ساتھ سوچتا ہے تو وہ مجھے خاموش کروا سکتا ہے یا وہ دوبارہ سوچ سکتا ہے۔"

انہوں نے ایکس پلیٹ فارم کو ایک "مکمل بدتمیزی" قرار دیا اور مسک سے اسے چھوڑ دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا: "سچ کہوں تو مجھے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر گالیوں والے، نسل پرستانہ، اسلام مخالف پیغامات اور میرے اور میرے خاندان کے خلاف قتل کی دھمکیاں موصول ہوتی ہیں لیکن بنیادی طور پر ایکس پر۔ اس لیے کسی نہ کسی سطح پر ضابطے کا ہونا ضروری ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں