امریکی عدلیہ نے منگل کے رو زاعلان کیا ہے کہ امریکا میں مقیم ایک افغانی باشندے پر پانچ نومبر کو صدارتی انتخابات کے دن حملے کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ملزم ناصر احمد توحیدی کا تعلق داعش تنظیم سے ہے۔
عدالتی دستاویز کے مطابق FBI نے گوگل پر توحیدی کے اکاؤنٹ کی نگرانی کے دوران پتا چلایا کہ وہ باقاعدگی کے ساتھ داعش تنظیم کی جانب سے نشر کیا جانے والا تشہیری مواد دیکھتا تھا۔
توحیدی کی عمر 27 برس ہے۔ ستمبر 2021 میں امریکی پہنچنے والا افغانی باشندہ اپنی بیوی اور ایک سالہ بیٹے کے ساتھ اوکلاہوما میں رہتا ہے۔
عدالتی تفصیلات کے مطابق توحیدی نے ٹیلی گرام ایپلی کیشن کے ذریعے ایک شخص کے ساتھ رابطہ رکھا جس کو امریکی ایف بی آئی نے داعش تنظیم میں بھرتی کا ایک ذمے دار شمار کیا ہے۔ ملزم نے داعش تنظیم کے مذکورہ ذمے دار کے ساتھ اسلحے کے حصول اور اپنے اہل خانہ کو افغانستان بھیجنے کے طریقہ کار کے بارے میں بات چیت کی تھی۔
امریکی عدالتی حکام کے مطابق توحیدی پیر کے روز اپنی بیوی کے بھائی کے ساتھ پکڑا گیا تھا۔ تاہم اس کا یہ مبینہ ساتھ کم عمر ہے۔
امریکی وزیر انصاف میرک گارلینڈ نے ایک بیان میں بتایا کہ وزارت انصاف نے ملزم کا نیم خود کار ہتھیار حاصل کرنے کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ ملزم اس کے ذریعے داعش کے نام سے امریکی سرزمین پر انتخابات کے روز ایک شدید حملہ کرنا چاہتا تھا۔
وزارت عدل کے مطابق توحیدی پر داعش تنظیم کو مادی سپورٹ پیش کرنے اور دہشت گردی کے جرم کے ارتکاب کے لیے آتشی اسلحہ حاصل کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ان دو الزامات میں بالترتیب 20 اور 15 برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔