بولیویا اسرائیل کے خلاف دائر "نسل کشی" کے مقدمے میں شامل

بولیویا کے بعد اسرائیل کےخلاف نسل کشی کے مقدمے میں شامل ممالک کی تعداد پانچ ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بولیویا بین الاقوامی عدالت انصاف میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ نسل کشی کے مقدمے میں شامل ہو گیا ہے۔

اس حوالے سے اعلان عالمی عدالت اور بولیویا کی طرف سے گذشتہ روز سامنے آیا۔

بولیویا سے پہلے کولمبیا، لیبیا، اسپین اور میکسیکو نے اسرائیل کے خلاف اس کیس میں شمولیت اختیار کی تھی۔

نومبر میں بولیویا نے اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ اس نے غزہ پر اسرائیل کی طرف سے شروع کیے گئے "غیر متناسب" حملوں کو قرار دیا۔ اسرائیل نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "دہشت گردی کے سامنے ہتھیار ڈالنے" سے تعبیر کیا تھا۔

رواں سال 26 جنوری کو جاری کردہ ایک فیصلے میں بین الاقوامی عدالت انصاف نے بھی اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ غزہ میں اپنی فوجی کارروائی کے دوران نسل کشی کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے اپنی طاقت میں ہر ممکن کوشش کرے۔

عدالت نے اسرائیل کو یہ بھی حکم دیا کہ وہ نسل کشی کے الزامات کی سچائی کی تصدیق کے لیے اقوام متحدہ کی طرف سے تفویض کردہ تفتیش کاروں تک "بلا رکاوٹ رسائی" کو یقینی بنائے۔

لیکن اس کے بعد سے جنوبی افریقہ نے بار بار عدالت سے کارروائی کرنے پر زور دیا ہے۔ اس نے یہ دلیل دی کہ غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال عدالت سے مزید ہنگامی اقدامات جاری کرنے کا تقا ضہ کرتی ہے۔

بولیویا نے اپنی درخواست میں کہا کہ ’’اسرائیل کی طرف سے چھیڑی جانے والی نسل کشی کی جنگ جاری ہے اور عدالت کے فیصلے اب بھی اسرائیل کے لیے مردہ خط ہیں‘‘۔

فلسطینی پٹی میں سول ڈیفنس سروس نے بدھ کو اعلان کیا کہ اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کی پٹی کو شدید بمباری اور بند سڑکوں کو نشانہ بناتے ہوئے امداد کی آمد کو روک دیا۔

ہفتے کے آخر میں اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے غزہ کے کچھ حصوں میں نئی کارروائیاں شروع کر دی ہیں اور اس کی افواج نے جبالیہ کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں