شامی ٹیلی ویژن نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اطلاع دی کہ اسرائیل نے حمص کے دیہی علاقوں میں ایک صنعتی علاقے اور حماۃ میں ایک فوجی مقام کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کیے ہیں، تاہم ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا البتہ املاک کو نقصاج پہنچا ہے۔
شامی ٹیلی ویژن نے حسیاء میں صنعتی شہر کے ڈائریکٹر عامر خلیل کے حوالے سے بتایا کہ "اسرائیلی فضائی حملے میں شہر میں طبی اور امدادی سامان سے لدی کاروں کے علاوہ ایک کار فیکٹری کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی"۔ انہوں نے مزید کہا کہ فائر فائٹنگ ٹیمیں فی الحال اسے بجھانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔
شامی خبر رساں ایجنسی ’سانا‘ نے ایک فوجی ذرائع کے حوالے سے کہا کہ اسرائیلی دشمن نے شمالی لبنان کی سمت سے فضائی حملہ کیا، جس میں حمص کے دیہی علاقوں میں حسیاء میں صنعتی زون میں کار اسمبلی پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا"۔
حسیاء حماۃ کے جنوب میں 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ بمباری میں جس کار اسمبلی پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا وہ ایک "ایرانی فیکٹری" تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ "ایرانی کار فیکٹری کو براہ راست نشانہ بنایا گیا اور حما کے جنوبی دیہی علاقوں پر بھی حملے کیے گئے"۔
آبزرویٹری کے مطابق حماۃ کے دیہی علاقوں میں حملوں کے دوران فضائی دفاع اور سرکاری فورسز پر مشتمل مرکزکو نشانہ بنایا گیا۔
سرکاری میڈیا نے یہ بھی بتایا کہ شام کے شہر درعا میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں اور ان کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
اسرائیل برسوں سے شام میں ایران سے منسلک اہداف کے خلاف حملے کر رہا ہے لیکن اس نے گذشتہ برس سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر کیے گئے حملے کے بعد سے شام میں اپنے حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔