چین نے جمعہ کے روز اقوامِ متحدہ کی امن کارروائیوں پر اسرائیلی حملوں پر "شدید تشویش اور سخت مذمت" کا اظہار کیا جب امن دستوں نے کہا کہ اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان میں ان کے ہیڈکوارٹر پر فائرنگ کی۔
چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے لبنان میں اقوامِ متحدہ کی امن فوج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "چین اسرائیلی دفاعی افواج کے یونی فِل کے مقامات اور نگران چوکیوں پر حملے پر شدید تشویش اور شدید مذمت کا اظہار کرتا ہے جس کے نتیجے میں یونی فِل اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔"
اقوامِ متحدہ کے امن دستوں نے کہا کہ جمعرات کو جنوبی لبنان میں ان کے ہیڈکوارٹر پر اسرائیلی فائرنگ کے نتیجے میں دو اہلکار زخمی ہو گئے۔ اس واقعے کی امن مشن کے یورپی اراکین نے مذمت کی۔
اسرائیل نے تسلیم کیا ہے کہ اس کی افواج نے علاقے میں فائرنگ کی تھی اور کہا کہ حزب اللہ کے مزاحمت کار اقوامِ متحدہ کی چوکیوں کے قریب کارروائیاں کرتے ہیں جن کے خلاف وہ شدت اختیار کرتی ہوئی جنگ لڑ رہے ہیں۔"
امن فوج میں فوجیوں کی تعداد کے ایک بڑے حصے دار اٹلی نے کہا، یہ کارروائیاں "جنگی جرائم کا حصہ بن سکتی ہیں" جبکہ واشنگٹن نے "سخت تشویش" کا اظہار کیا ہے۔
اور بیجنگ نے جمعہ کو کہا، "اقوامِ متحدہ کے امن فوجیوں پر کوئی بھی دانستہ حملہ بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔"
ماؤ ننگ نے کہا، "ایسی کارروائیوں کو فواً روکا جائے۔" انہوں نے "واقعے کی تحقیقات، ذمہ داروں کے لیے جوابدہی اور دوبارہ ایسے واقعے سے بچنے کے لیے اقدامات کرنے" کا مطالبہ کیا۔
یونی فِل کے جنوبی لبنان میں تقریباً 10,000 امن دستے تعینات ہیں جس نے ایک سال کی سرحد پار فائرنگ کے بعد 23 ستمبر کو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔