امن فورس پر گولہ باری کرنے پر فرانس، اٹلی اور سپین نے اسرائیل کی مذمت کر دی
اسرائیل نے اپنی ایک اور جنگی کارروائی سے اپنے لیے یورپی ملکوں کی بھی مذمت کا راستہ کھول لیا ہے۔ جمعہ کے روز اٹلی ، فرانس اور سپین نے جنوبی لبنان کی سرحد پر تعینات امن فوج پر اسرائیلی گولہ باری کے واقعات کی شدید مذمت کی ہے۔
اس سے قبل لبنان میں امن فورس کے ترجمان نے کہا تھا 'اسرائیلی فوج کے ان حملوں کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔ اس لیے انہیں ختم ہونا چاہیے۔
یاد رہے امن فوج کی پوزیشنوں پر اسرائیلی فوج کی گولہ باری سے امن فوج کے دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے امن فوج کو راستے ہٹا کر لبنان پر زمینی حملے کے لیے پیش قدمی کرنے کی کوشش میں ہے۔ لیکن امن فوج نے اسرائیلی فوج کے راستے سے ہٹ جانے سے انکار دیا ۔
فرانس، اٹلی اور سپین لبنانی سرحد پر امن فوج تعیناتی کے لیے سب سے زیادہ تعداد میں اہلکار فراہم کرنے والے ملک ہیں۔ اس ناطے یہ سب سے بڑے یورپی تعاون کنندگان ہیں۔
ایک مشترکہ بیان میں لبنانی علاقے ناقورۃ میں امن فوج کے مرکزی اڈے پر متعدد امن فوجیوں کو زخمی کرنے پر ان تینوں ملکوں نے غصے کا اظہار کیا ہے۔
ان کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے ' یہ حملے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 اور انسانی ہمدردی کے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ تمام امن فوجیوں کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے اور اس چیلنج جیسی صورت حال میں امن فوجیوں کے لیے ہم اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔