سکھ رہنما کے قتل معاملے میں کینیڈین وزیر اعظم کا رویہ ’گھمنڈی‘ ہے: بھارت

بھارت نے کینیڈا کی خودمختاری میں مداخلت کر کے بڑی غلطی کی: جسٹن ٹروڈو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

بھارت نے کینیڈا کی جانب سے 2023 کے دوران علاحدگی پسند سکھ رہنماؤں کے کینیڈا میں قتل کے معاملے کے تباہ کن نتائج سے متعلق کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کو جمعرات کے روز "نک چڑھے اور گھمنڈی" شخصیت سے تعبیر کیا ہے۔

نئی دہلی نے اوٹاوا کے سامنے اپنے سرکشی کے مظہر رویے پر ثابت قدمی دکھائی ہے۔ حالانکہ امریکہ کے سامنے اسی معاملے پر بھارت نے بھیگی بلی بن کر معاملات سلجھانے کی حامی بھری تھی۔ بھارت پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ امریکہ میں ایسے علاحدگی پسند راہنماؤں کے قتل کا الگ منصوبہ تیار کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا تھا جب جون 2023 میں سکھ علیحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو کینیڈا میں قتل کر دیا گیا تھا۔

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے بدھ کے روز پارلیمانی انکوائری کے دوران بھارت کے ساتھ سفارتی تنازعہ کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ بھارت نے ان کے ملک کی خودمختاری اور سلامتی میں مداخلت کر کے ایک بڑی غلطی کی ہے۔ وہ گذشتہ سال کینیڈین سرزمین پر سکھ علیحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں بات کر رہے تھے۔

بدھ کو اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ وہ کینیڈا کے شہریوں کے تحفظ پر جوابدہ ہیں۔ تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ’ہم بھارت کو اکسانے کوشش نہیں کر رہے نہ کسی جھگڑے میں پڑنا چاہتے ہیں۔‘

’(تاہم) انڈین حکومت نے یہ سوچ کر ایک ہولناک غلطی کی کہ وہ کینیڈا کی حفاظت اور خودمختاری میں اتنی جارحانہ حد تک مداخلت کر سکتی ہے۔‘

کینیڈا میں سکھ علیحدگی پسند رہنما کے قتل میں بھارتی عہدیداران کے ملوث ہونے کے الزامات کے بعد ایک نیا سفارتی تنازع جنم لے رہا ہے جس کے دوران پہلے کینیڈا کی حکومت نے بھارت کے ہائی کمشنر سمیت پانچ دیگر سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا اور بعد میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارت نے بھی کینیڈا کے چھ سفارت کاروں کو ملک چھوڑ دینے کی ہدایت کی۔

ٹروڈو کا کہنا تھا کہ انھوں نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو خراب کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی اور یہ کہ کینیڈین حکام نے اپنے انڈین ہم منصبوں کو نجی طور پر ثبوت فراہم کیے، جن کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ وہ (بھارتی حکام) تعاون نہیں کر رہے تھے۔

کینیڈین وزیراعظم کا کہنا ہے کہ انڈین سفارت کار کینیڈین شہریوں کے بارے میں معلومات انڈین حکومت کے اعلیٰ ترین سطح تک پہنچاتے رہے ہیں جو اس وقت منظم جرائم کے ساتھ شیئر کی گئیں جس کے نتیجے میں کینیڈا کے شہریوں کے خلاف تشدد ہوا۔

ٹروڈو کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت ان الزامات کو ستمبر 2023 میں عوام کے سامنے لا سکتی تھی جب انڈین وزیر اعظم نریندر مودی جی 20 سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہے تھے مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ انھوں نے مودی سے ملاقات کی اور نجی طور پر تشویش سے آگاہ کیا۔

’دنیا کے تمام رہنماؤں کا ایک انتہائی اہم سربراہی اجلاس کے لیے نئی دہلی میں خیرمقدم کرنا بھارت کے لیے بہت اہم لمحہ تھا اور یہ ہمارے لیے ایک بہترین موقع بھی تھا مگر اگر اس وقت ہم ان الزامات کو عوام کے سامنے لاتے تو بھارت کے اس اجلاس کی سربارہی کھٹائی میں پڑ جاتی۔‘

ٹروڈو کا کہنا ہے کہ ’ہم نے یہ سوچتے ہوئے کہ بھارت ہمارے ساتھ تعاون کرے گا، خاموشی سے بھارت کے ساتھ کام جاری رکھنے کا انتخاب کیا۔‘ ٹروڈو کا کہنا ہے کہ مگر جب وہ کینیڈا واپس آئے تو بھارت کا ردعمل (خاص طور پر میڈیا کے ذریعے) کینیڈا پر حملے جیسا تھا۔

یاد رہے رواں ہفتے کے آغاز میں بھارت میں کینیڈا کے ڈپٹی ہائی کمشنر نے حالیہ تنازع کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیان دیا کہ ’ناقابل تردید شواہد بھارت کی حکومت کو فراہم کیے جا چکے ہیں اور اب اس بات کی ضرورت ہے کہ بھارت ان شواہد کی تفتیش کرے۔‘

اس سے قبل اتوار کی شام کینیڈا کی حکومت نے کہا تھا کہ انڈین ہائی کمشنر اور بعض سفارتکاروں کا ایک سکھ علیحدگی پسند رہنما کے قتل کے معاملے سے تعلق تھا۔

دوسری جانب بھارت نے ان الزامات کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیا ہے اور سوموار کی رات دلی سے کینیڈا کے چھ سفارتکاروں کو 19 اکتوبر تک، یعنی پانچ دن میں، ملک سے چلے جانے کا حکم دیا جن میں ‏عارضی ہائی کمشنر اور نائب ہائی کمشنر بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں