السنوار کی لاش ... کیا اسرائیل اس "کارڈؔ" کو غزہ میں یرغمالیوں کے مقابل کھیلے گا ؟
اسرائیلی اخبار "يديعوت احرونوت" کے مطابق اس بات کی توقع کی جا رہی ہے کہ حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ یحیی السنوار کی لاش کو مذکرات کے "کارڈ" کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
اخبار نے مزید کہا ہے کہ اسرائیل یرغمالیوں کی کچھ تعداد کے مقابل السنوار کی لاش واپس کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے ، اگر تل ابیب کو یہ پیش کش کی گئی۔
اخبار کے مطابق اسرائیلی ذمے داران کا اندازہ یہ ہے کہ قیدیوں کے سمجھوتے کے حوالے سے مذاکرات کا معاملہ السنوار کی ہلاکت کے بعد غزہ کی پٹی کے بیرون موجود حماس کی قیادت کی طرف منتقل ہو چکا ہے۔ اس طرح معاہدے تک پہنچنے کے مواقع بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حماس کے سربراہ یحیی السنوار کی ہلاکت کا اعلان کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ اس کامیابی سے غزہ میں جنگ ختم نہیں ہوئی۔ انھوں نے باور کرایا کہ تمام یرغمالیوں کی واپسی تک فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
دوسری جانب امریکی صدر جو بایڈن نے بھی السنوار کی ہلاکت پر اسرائیلی وزیر اعظم کو مبارک باد پیش کی ہے۔ بائیڈن کے مطابق امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن آئندہ دنوں میں مشرق وسطیٰ کا دورہ کریں گے۔