جرمنی نے اسرائیل کو 100 ملین ڈالر کے اسلحے کی برآمد کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

جرمنی نے پچھلے تین ماہ کے دوران اسرائیل کے لیے 100 ملین ڈالر کے فوجی ساز و سامان کو برآمد کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ بات جمعرات کے روز جرمن کی وزارت خارجہ نے بتائی ہے۔ اور یہ فیصلہ اس وقت سامننے آیا ہے جب 'ہیومن رائٹس گروپ ' نے غزہ میں اسلحہ کے استعمال کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی قرار دیا ہے اور اس پر تشویش ظاہر کی ہے۔

جرمنی کی وزارت خارجہ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اس نے پچھلے اگست سے لے کر اب تک 101.61 ملین ڈالر کا فوجی ساز و سامان اسرائیل کو بھیجنے کی منظوری دی ہے۔

یہ بات پارلیمان کو ایک سوال کے جواب میں بتائی گئی۔ سوال بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمان نے پوچھا تھا۔

جرمنی کی طرف سے فوجی سامان کی نئی منظوری اس حوالے سے اہم ہے کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں اسلحے کی اس برآمد کا گراف نیچے آگیا ہے۔ 'یورپین سنٹر فار کنسٹیٹیوشنل اینڈ ہیومن رائٹس ' نے جمعرات کے روز بتایا ہے کہ اس نے 'فرنک فرڈ' کی ایڈمنسٹریٹیو کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے۔ جو غزہ کے شہریوں کی طرف سے ہے۔ اس درخواست میں اپیل کی گئی ہے کہ اسرائیل کو اسلحے کی سپلائی روکے جائے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جرمنی کے بھیجے گئے ہتھیار غزہ کے شہریوں کو قتل کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ اس درخواست کا دائر کرنے والا غزہ کا رہائشی ہے ۔ جس کی اہلیہ اور بیٹی اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں