غزہ تا ایران: ٹرمپ اور ہیرس مشرق وسطیٰ کے مسائل کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

مشرق وسطیٰ کے مسائل کسی بھی امریکی صدارتی امیدوار کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ خاص طور پر حال ہی میں غزہ اور لبنان کی جنگوں سے خطے میں ہونے والی خطرناک پیش رفت کی روشنی میں مشرق وسطیٰ کے مسائل کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

حال ہی میں ریپبلکن امیدوار سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ اپنی تقریباً روزانہ کی جانے والی فون کالز کے بارے میں شیخی بگھارتے ہوئے کہا کہ ان کے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ سابق صدر نے یہ بھی عہد کیا کہ اگر وہ 5 نومبر کو ہونے والے صدارتی الیکشن جیت جاتے ہیں تو اسرائیلی قیادت کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

دوسری طرف ڈیموکریٹک صدر جو بائیڈن اور نیتن یاہو کے درمیان آخری عوامی فون کال 17 اکتوبر کی ہے۔

یہ صورت حال ٹرمپ اور ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار کملا ہیرس کے مشرق وسطیٰ کے مسائل بالخصوص اسرائیل کے ساتھ جنگ سے نمٹنے کے طریقے پر روشنی ڈالتی ہے۔ انتخابات سے چند ہفتے قبل ٹرمپ اور کملا ہیرس دونوں نے اسرائیل کو تقسیم کرنے والے مسئلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ ہار گئے تو یہ ملک دو سالوں میں موجود نہیں رہے گا۔ ادھر ہیرس کی مہم نے اسرائیل کے بارے میں ان کی بیان بازی کو یہود مخالف قرار دے دیا۔

ٹائمز آف اسرائیل کی ویب سائٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اور ہیرس اسرائیل سے متعلق متعدد مسائل پر متفق نہیں ہیں۔ اسرائیل کے لڑائی لڑنے کے انداز اوردنیا میں امریکہ کے کردار کے بارے میں بھی بھی دونوں کا نقطہ نظر مختلف ہے۔

غزہ میں لڑائی

غزہ میں ایک سال سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ کے حوالے سے دونوں امیدوار جنگ کا فوری خاتمہ چاہتے ہیں۔ ہیرس اپنے فلسطینیوں اور اسرائیلی متاثرین کے لیے ہمدردی کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر وضع کرتی ہیں اور خلا کو پُر کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ٹرمپ نے جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے کے لیے مہینوں کا مطالبہ کیا تھا۔ گزشتہ مارچ میں انھوں نے ایسا جلد کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا اور اس کے بعد کے مہینوں میں اس کال کو بارہا دہرایا تھا۔ لیکن کملا ہیرس جنگ بندی پر زور دیتی ہیں اور ٹرمپ اسرائیل کی فتح پر زور دیتے ہیں۔ کیونکہ وہ جنگ کو اسرائیلی فیصلہ سمجھتے تھے۔

غزہ کی تباہی
غزہ کی تباہی

جوہری معاہدہ

چار سال قبل ٹرمپ اور بائیڈن کے درمیان خارجہ پالیسی کے شدید ترین اختلافات میں سے ایک ایرانی جوہری معاہدے سے متعلق ہے۔ اس معاہدے پر 2015 میں دستخط کیے گئے تھے جب بائیڈن نائب صدر تھے اور اوباما صدر تھے۔

اس معاہدے نے پابندیوں میں ریلیف کے بدلے ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کر دیا تھا اور نیتن یاہو کی درخواست پر ٹرمپ نے 2018 میں معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔ بائیڈن نے عہدہ سنبھالنے کے پہلے مہینوں میں اسے بحال کرنے کی کوشش کی۔

ایران پر حملہ

ایران پر حملہ کرنے سے متعلق بھی کملاہیرس اور ٹرمپ کے خیالات اس طرح مختلف ہیں کہ اسرائیل کو ایسا کیسے کرنا چاہیے۔ اکتوبر کے آغاز میں جب سے ایران نے اسرائیل پر 180 سے زیادہ میزائل داغے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے جوابی حملے کے بارے میں کافی باتیں کی جا رہی ہیں۔ امریکہ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی ردعمل کی حمایت کرتا ہے اور تمام آپشنز میز پر ہیں۔

دوسری طرف ٹرمپ جب صدر تھے تو انہوں نے ایران کے ممتاز جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن ٹرمپ جنگ سے نفرت کرنے کے لیے جانے جاتے تھے۔ آیا وہ اب سٹرائیک میں امریکی شرکت پر راضی ہوں گے۔

غور طلب بات یہ بھی ہے کہ 5 نومبر کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کا مقابلہ کملا ہیرس سے ہونا ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ دونوں حمایت کی شرح میں قریب قریب ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں