واشنگٹن نے سوڈانی فوج کے ایک سینئر عہدیدار پر پابندیاں عائد کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سوڈانی تنازع ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ سے جاری ہے۔ اسی تناظر میں امریکہ نے جمعرات کو سوڈانی فوج میں ملٹری انڈسٹریز کے ڈائریکٹر میر غنی ادریس سلیمان پر پابندیاں عائد کر دیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اطلاع دی ہے کہ میر غنی ادریس نے سوڈانی فوج کے فائدے کے لیے ایران اور روس سے ڈرونز کی خریداری میں نمایاں کردار ادا کیا اور سوڈان میں جنگ کو وسعت دینے کا سبب بن گئے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ سوڈانی فوج نے امن کے بجائے ڈرون کی خریداری کو ترجیح دی۔ امریکی محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ کے مطابق میر غنی ادریس غیر ملکی اثاثہ جات کے کنٹرول میں درج اندرونی سکیورٹی سروس کے دفتر کے سربراہ ہیں۔ یہ سوڈانی مسلح افواج کا دستہ ہے جو بنیادی طور پر ہتھیاروں کی خریداری اور ان کی پیداوار کا ذمہ دار ہے۔

جب انہوں نے سوڈانی مسلح افواج کے افسر کور میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا اس نے سوڈانی مسلح افواج کے کمانڈر عبدالفتاح البرہان کے ساتھ گریجویٹس کے اکتیسویں بیچ میں گریجویشن کیا۔ اس کے بعد اس نے سوڈانی انٹیلی جنس سروس میں خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد وہ انٹرنل سکیورٹی سروس کی سربراہی کے لیے مقرر کیے گئے۔

آرمی پروکیورمنٹ ڈائریکٹر

اپنی تقرری کے بعد سے میر غنی ادریس نے سوڈانی مسلح افواج کے لیے پروکیورمنٹ کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دی ہیں۔ یہاں انھوں نے ممکنہ سپلائرز کے لیے کئی سرکاری وفود کی قیادت کی۔

دریں اثنا جمعرات کو شمالی دارفور کے شہر الفشر میں فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان پرتشدد تصادم دوبارہ دیکھنے میں آیا۔ عینی شاہدین نے العربیہ کو اطلاع دی ہے کہ انہوں نے شہر کے کئی علاقوں میں بھاری اور ہلکے ہتھیاروں کی آوازیں سنی ہیں۔ یہ ایک ماہ تک خاموشی رہنے کے بعد دوبارہ سے ہونے والی جھڑپیں ہیں۔

سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان تقریباً 18 مہینوں سے لڑائی جاری ہے جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر انسانی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ ۔ ایک کروڑ سے زائد افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے ہیں اور اقوام متحدہ کے ادارے سوڈان میں امداد فراہم کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں