امریکہ نے ایران پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی حملے کا جواب نہ دے ۔ دوسری طرف ایرانی وزارت خارجہ نے ان حملوں کی مذمت کا اظہار کیا۔ ایرانی وزارت خارجہ ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ اپنا دفاع کرنا اس کا حق اور فرض ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اپنے دفاع کا یہ فطری حق اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 میں درج ہے۔
وزارت خارجہ نے کہا اسرائیلی حملہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔ خاص طور پر یہ ریاستوں کے اتحاد اور خودمختاری کے خلاف خطرہ یا طاقت کے استعمال کو روکنے کے اصول کے خلاف ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق علاقائی امن اور سلامتی کے حوالے سے اپنے فرائض پر یقین رکھتے ہوئے۔ یہ حملہ علاقائی امن اور استحکام کے تحفظ کے لیے خطے کے تمام ممالک کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری کو یاد کراتا ہے۔ انہوں نے خطے کے ان ممالک کے لیے اپنی تعریف کا اظہار کیا جنہوں نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی ہے۔
وزارت خارجہ کے بیان میں اس بات کو مکمل واضح نہیں کیا گیا کہ آیا ایران جواب دے گا یا نہیں۔ بہت سے مبصرین توقعات کا اظہار کر رہے ہیں کہ ایران اس حملے کا جواب نہیں دے گا۔ مبصرین نے کہا کہ اسرائیل کا یہ حملہ محدود اور تکلیف دہ تھا۔
ایرانی حکام نے بتایا ہے کہ حملے سے ہونے والے نقصان محدود تھے۔ اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ حملوں نے کامیابی سے اپنے اہداف حاصل کیے ہیں۔ اسرائیل نے کہا کہ اس نے تقریباً 20 مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ ان مقامات میں فوجی اڈے، میزائل اور ڈرون بنانے کی تنصیبات اور دفاعی نظام کی تنصیبات شامل ہیں۔
-
اسرائیلی اپوزیشن لیڈرنے ایران میں اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنانے سے گریز کو غلط فیصلہ قرار
اسرائیلی اپوزیشن لیڈر نے آج صبح ایران پر کیے گئے اسرائیلی حملوں میں ایران کی ...
مشرق وسطی -
قتل و غارت، سبوتاژ، سائبر حملے: ایران کے خلاف اسرائیل کی کارروائیاں
پاسدارانِ انقلاب کے ارکان اور ایٹمی سائنسدان بالخصوص اسرائیل کے نشانے پر ہیں
بين الاقوامى -
ڈرون اور دفاعی نظام: ایران اور اسرائیل کی فضائی صلاحیتیں کیا ہیں؟
یکم اکتوبر کو تہران کی طرف سے اسرائیل پر میزائل حملوں کے جواب میں ہفتہ 26 اکتوبر ...
بين الاقوامى