امریکہ نے اسرائیلی پارلیمنٹ کی طرف سے منظور کیے گئے ایک مسودہ قانون کے بارے میں "گہری تشویش" کا اظہار کیا ہےجس میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی ’انروا‘ کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "ہم نے اسرائیلی حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ ہمیں اس مجوزہ قانون سازی پر گہری تشویش ہے"۔ انہوں نے غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی تقسیم میں ایجنسی کے "اہم" کردار پر زور دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ "ہم اسرائیلی حکومت پر زور دیتے رہتے ہیں کہ وہ اس قانون سازی پر عمل درآمد روک دے۔ ہم ان سے کہتے ہیں کہ وہ اسے ہر گز منظور نہ کریں۔ اور آنے والے دنوں میں جو کچھ ہوتا ہے اس کی بنیاد پر ہم اگلے اقدامات پر غور کریں گے"۔
ملر کے بیانات کے چند منٹ بعد اسرائیلی پارلیمنٹ نے بھاری اکثریت سے اس قانون کو منظور کر لیا۔
اسرائیل نے ’انروا‘ کے کچھ ملازمین پر سات اکتوبر 2023ء کو جنوبی اسرائیل میں حماس کے حملے میں حصہ لینے کا الزام لگایا جاتا ہے۔
امریکہ نے ان الزامات کے بعد ایجنسی کو اپنا مالی تعاون معطل کر دیا تھا اور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان تحقیقات کے دوران کانگریس نے ایک بل منظور کیا جس میں ’انروا‘ کی فنڈنگ کو بحال کرنے سے منع کیا گیا تھا.
ترجمان نے کہا کہ امریکی حکومت اس کے باوجود یقین رکھتی ہے کہ ایجنسی "غزہ میں ضرورت مند شہریوں کو انسانی امداد فراہم کرنے میں اہم اور موثر کردار ادا کرتی ہے۔ یہ مغربی کنارے اور پورے خطے میں فلسطینیوں کو خدمات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے"۔
انہوں نے کہا کہ "حقیقت یہ ہے کہ ’انروا‘ اب غزہ میں غیرمعمولی کردار ادا کررہی ہے۔ یہ ان لوگوں تک انسانی امداد پہنچانے کے لیے صف اول پر ہے جنہیں مدد کی ضرورت ہے۔ بحران کے درمیان کوئی بھی ان کی جگہ نہیں لے سکتا"۔
واشنگٹن نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں انسانی امداد کے داخلے کی اجازت دینے کے لیے مزید کوششیں کرے، خاص طور پر شمال میں فوری امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ وہ آنے والے ہفتوں میں صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ اگر اسرائیل نے اس کی تعمیل نہیں کی تو واشنگٹن نے خبردار کیا کہ وہ اس کے لیے اپنی فوجی امداد کا کچھ حصہ معطل کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔