غزہ کے لیے ناگزیر انروا پر پابندی لگانے کی صورت میں اسرائیل کو خود امداد کرنی چاہیے:یو این

امریکی قانون اور پالیسی کے تحت نئے اسرائیلی قانون کے اثرات ہو سکتے ہیں: میتھیو ملر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

اقوامِ متحدہ نے منگل کو اس بات پر زور دیا کہ اگر اسرائیل اقوام متحدہ کے ادارے انروا کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے والے نئے قوانین نافذ کرتا ہے تو بین الاقوامی ضوابط کے تحت اسرائیلی حکومت کو ان کی ضروریات پوری کرنا ہوں گی۔

سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی ایجنسی کا کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔ غزہ میں اسرائیل اور حماس کی جنگ کے دوران یہ ناگزیر رہی ہے اور اسرائیلی قانون سازی کا فلسطینی علاقوں میں "انسانی صورتِ حال پر تباہ کن اثر ہو گا،" یہ بات اقوامِ متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے بتائی۔

بچوں، صحت اور نقل مکانی کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں نے بھی اس بات پر زور دیا کہ انروا غزہ میں عالمی ادارے کی کارروائیوں کی "ریڑھ کی ہڈی" ہے۔ یہاں لوگ ایک سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے دوران ہنگامی خوراک کی امداد پر انحصار کرتے ہیں جس میں دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور زیادہ تر علاقہ کھنڈرات میں بدل گیا ہے۔

دوجارک نے کہا، تمام حلقوں اور ممالک کی جانب سے انروا کی حمایت میں بیانات سے اقوامِ متحدہ کو خوشی ہوئی ہے اور "اس رکاوٹ کو عبور کرنے میں ہمیں مدد دینے کے لیے کسی بھی رکن ریاست کی کوششوں کی ہم بہت تعریف کریں گے۔"

اسرائیل نے غزہ میں موجود انروا عملے کے بعض ارکان پر سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔ اس نے عملے کے سینکڑوں افراد کے مزاحمت کاروں سے روابط کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ اسے ایجنسی مراکز کے نیچے یا ان کے اندر حماس کے فوجی اثاثہ جات ملے۔

اسرائیل نے پیر کو دو قوانین منظور کیے جو انروا کو اس کا کام جاری رکھنے سے روک سکتے ہیں جس نے اسے اقوامِ متحدہ کے 193 رکن ممالک میں تنہا کر دیا۔ حتیٰ کہ اس کے قریبی ترین اتحادی امریکہ نے کئی حکومتوں اور انسانی تنظیموں کے ساتھ مل کر اسرائیلی قانون سازی کی مخالفت کی۔ یہ قانون تین ماہ تک نافذ نہیں ہو گا۔

دوجارک نے بتایا کہ گوٹیرس نے منگل کو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو ایک خط بھیجا جس میں ان کے خدشات اور "بین الاقوامی قانون کے مسائل" کا خاکہ پیش کیا۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے کہا، ایک قابض طاقت کے طور پر اسرائیل کو فلسطینیوں کی ضروریات بشمول خوراک، صحت اور تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ اور اگر اسرائیل ان ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہے تو "اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ بشمول انروا اور دیگر انسانی ہمدردی کی ایجنسیوں کو امدادی سرگرمیوں کی اجازت دے اور انہیں سہولت فراہم کرے۔"

دوجارک نے کہا، "اگر انروا کو کام بند کر دینا چاہیے - اور ہمارے پاس کوئی متبادل نہیں ہے - تو اسرائیل کو یہ خلا پُر کرنا ہو گا۔ بصورتِ دیگر یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو گی۔"

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے نیتن یاہو کے نام سیکریٹری جنرل کے خط کا جواب دیتے ہوئے کہا، "دہشت گردی پر آنکھیں بند کرنے اور بعض معاملات میں دہشت گردی میں حصہ لینے پر انروا کی مذمت کرنے کے بجائے اقوامِ متحدہ اسرائیل کی مذمت کرتا ہے۔"

انہوں نے انروا کو "اقوامِ متحدہ کے بھیس میں کام کرنے والے حماس کے بازو کے سوا کچھ نہیں" قرار دیا اور ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ یہ غزہ کو انسانی امداد فراہم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔

ڈینن نے کہا، "اسرائیل بین الاقوامی قانون کے مطابق غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی جاری رکھے گا لیکن انروا اپنے دائرہ اختیار میں ناکام رہا ہے اور اب اس کام کے لیے مناسب انتخاب نہیں ہے۔"

عالمی ادارۂ صحت کے ترجمان طارق جساریوک نے کہا کہ انروا کے ہیلتھ ورکرز نے گذشتہ سال کے دوران چھے ملین سے زیادہ طبی مشورے فراہم کیے۔ انہوں نے حفاظتی ٹیکوں، بیماریوں کی نگرانی اور ناکافی غذائیت کے لیے سکریننگ کی پیشکش بھی کی ہے اور "کوئی بھی ایجنسی بشمول عالمی ادارۂ صحت انروا کے کام کا متبادل" نہیں ہو سکتی۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے ترجمان جیریمی لارنس نے کہا، "انروا کے بغیر غزہ کی زیادہ تر آبادی کو خوراک، پناہ گاہ، صحت اور تعلیم سمیت دیگر چیزوں کی فراہمی رک جائے گی۔"

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بے گھر یا گھروں سے بھاگ جانے والے فلسطینیوں کو امداد فراہم کرنے کے لیے 1949 میں انروا قائم کی تھی۔

شرقِ اوسط کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے باقاعدہ اجلاس میں مقررین نے انروا کی حمایت کی اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے تمام ارکان نے حماس اور حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی جنگوں کی مذمت کی۔

امریکی سفیر لنڈا تھامس-گرین فیلڈ نے اسرائیلی قانون سازی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "اس وقت غزہ میں خوراک اور دیگر جان بچانے والی امداد کی فراہمی کے لیے انروا کا کوئی متبادل نہیں ہے۔"

انہوں نے گوٹیرس سے مطالبہ کیا کہ "ان الزامات کا جائزہ لینے اور ان کا ازالہ کرنے کے لیے ایک طریقہ کار تشکیل دیا جائے کہ انروا اہلکاروں کے حماس اور دیگر دہشت گرد گروپوں سے روابط ہیں۔"

درخواست کے بارے میں سوال پر اقوامِ متحدہ کے ترجمان دوجارک نے کہا، اقوامِ متحدہ کا اندرونی نگران ادارہ ان مسائل پر کام کر رہا ہے۔ اسرائیلی حکومت کی طرف سے گذشتہ ہفتے مخصوص نامعلوم مسائل اٹھانے والے خط کو بھی "انتہائی سنجیدگی سے" دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے مزید خبردار کیا کہ اسرائیلی قانون سازی "لاکھوں فلسطینیوں کے لیے خطرے کا باعث ہے جو ضروری خدمات کے لیے انروا پر انحصار کرتے ہیں۔"

ملر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ اس قانون سازی کی مخالفت کرتا ہے اور آئندہ دنوں میں اسرائیل کے ساتھ اس پر بات چیت کرے گا۔ وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن اور وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے اپنے اسرائیلی ہم منصبوں کو ایک خط میں لکھا کہ انسانی امداد میں اضافہ ہونا چاہیے ورنہ اسرائیل کے فوجی امداد سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔ اس خط کا حوالہ دیتے ہوئے ملر نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل کا یہ قانون نافذ ہو جائے تو امریکی قانون اور پالیسی کے تحت اس کے اثرات ہو سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں