یمن کے حوثیوں کو بیرون ملک سے پہلے سے کہیں زیادہ فوجی امداد مل رہی ہے: یو این رپورٹ
حزب اللہ، حماس اور دیگر ایرانی حمایت یافتہ گروہ مختلف طرح سے مدد کر رہے ہیں
اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یمن کی حوثی ملیشیا بیرونی ذرائع بالخصوص ایران اور حزب اللہ کی جانب سے پہلے سے کہیں زیادہ فوجی امداد ملنے کے باعث خود کو ایک "طاقتور عسکری تنظیم" میں تبدیل کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ گذشتہ سال غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے حوثیوں نے "علاقائی صورتِ حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 'محورِ مزاحمت' کے ساتھ تعاون بڑھایا جس میں ایران، حماس اور حزب اللہ شامل ہیں۔
پینل نے نوٹ کیا کہ "حوثیوں کی محدود صلاحیتوں کے حامل مقامی مسلح گروپ سے ایک طاقتور فوجی تنظیم میں تبدیلی سے ان کی انتظامی صلاحیتیں اس قابل ہو گئی ہیں کہ وہ اپنے زیرِ قبضہ علاقوں سے باہر تک کارروائی کر سکتے ہیں۔"
ستمبر 2023 سے جولائی 2024 تک کے تجزیئے پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا کہ اس طرح کی تبدیلی کو فوجی سامان کی منتقلی اور مالی امداد سے مدد ملی۔
اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ ملیشیا نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی غیر ملکی کاررائیوں کی شاخ القدس فورس کے ساتھ ساتھ حزب اللہ اور عراق میں ایران نواز گروہوں کی فراہم کردہ تربیت اور تکنیکی مدد سے بھی استفادہ کیا۔
انہوں نے کہا، "حوثی نمائندگی کے ساتھ عراق اور لبنان میں مشترکہ آپریشنل مراکز قائم کیے گئے ہیں جن کا مقصد مشترکہ فوجی کارروائیوں کو مربوط کرنا ہے۔"
رپورٹ میں خبردار کیا گیا، "حوثیوں کو بیرونی ذرائع سے جو متنوع فوجی ساز و سامان کی ٹیکنالوجی منتقل ہو رہی ہے، اس کا پیمانہ، نوعیت اور حد بے مثال ہے جس میں اس کے جنگجوؤں کی مالی مدد اور تربیت شامل ہے۔"
یہ رپورٹ عسکری ماہرین، یمنی حکام اور حوثیوں کے قریبی ذرائع کی گواہی پر مبنی ہے۔
ماہرین کو معلوم ہوا کہ ملیشیا ازخود "پیچیدہ ہتھیاروں کا نظام بنانے اور تیار کرنے" کی صلاحیت سے محروم ہے مثلاً وہ میزائل جو بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے گئے۔
لیکن انہوں نے یہ بھی کہا، اس کے بعض ہتھیار ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کے استعمال کردہ آلات سے مماثلت رکھتے ہیں۔
پینل نے کہا، حوثیوں کو یمن سے باہر ایران یا لبنان میں حزب اللہ کے تربیتی مراکز میں تربیت دی جا رہی ہے۔
حزب اللہ کو حوثیوں کے "انتہائی اہم حامیوں" میں سے ایک قرار دیا گیا ہے اور اس کی وجہ حوثیوں کی فیصلہ سازی میں گروپ کی شمولیت، ہتھیاروں کے نظام کو جوڑنے میں مدد، مالی اعانت، "نظریاتی رہنمائی" اور پروپیگنڈے کی کوششیں ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حوثیوں نے بھرتی کا ایک وسیع منصوبہ انجام دیا ہے جس کا نتیجہ 2024 کے وسط میں 350,000 ارکان کی صورت میں سامنے آیا جبکہ 2022 میں یہ تعداد 220,000 تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا، "اگرچہ پینل آزادانہ طور پر نئے بھرتی ہونے والے جنگجوؤں کی تعداد کی تصدیق کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا لیکن وسیع پیمانے پر ان کا متحرک ہونا باعثِ تشویش ہو گا۔"