ایران اسرائیل پر دوبارہ حملہ کرنے کے لیے تیار ہے: حکام اور انٹیلی جنس کا عندیہ

پینٹاگون کا شرقِ اوسط کے لیے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بی-52 بمبار، دوبارہ ایندھن بھرنے والے ٹینکر طیارے، اضافی بیلسٹک میزائل ڈیفنس ڈسٹرائرز اور لڑاکا طیاروں کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایران نے گذشتہ ماہ کے اسرائیل کے اعلانیہ تسلیم شدہ اولین حملے کا جواب دینے کے لیے خود کو تیار کر لیا ہے، یہ بات حکام اور اس معاملے سے واقف ذرائع نے العربیہ کو بتائی۔

گذشتہ روز ایران کے قائدِ اعلیٰ نے اپنے ملک پر سابقہ اسرائیلی حملوں کا "تباہ کن جواب" دینے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

واشنگٹن اور بائیڈن انتظامیہ کے دباؤ پر وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اسرائیل کا جوابی حملہ ایرانی فوجی تنصیبات تک محدود رکھنے پر اتفاق کیا۔ امریکہ کا خیال تھا کہ اس سے ایران کی دوبارہ جواب دینے کی خواہش کو محدود کرنے میں مدد ملے گی۔

تاہم موجودہ صورتِ حال ایک غیر یقینی کا شکار ہے۔ امریکی انٹیلی جنس اور عوامی ایرانی بیانات بتاتے ہیں کہ ایران حملے کرنے کے لیے تیار تو ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ آیا وہ کب اور کیسا جواب دے گا۔

عراق میں مسلح اور تہران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں نے حالیہ ہفتوں میں اسرائیل کے خلاف اپنے ڈرون حملوں میں اضافہ کر دیا ہے جس کے بارے میں متعدد امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک اضافہ شدہ رفتار تھی لیکن اسے روکنا ممکن ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ایرانی ردِ عمل آئندہ دنوں میں عراق یا دیگر پراکسیز سے بیک وقت کارروائیوں کی صورت میں آ سکتا ہے۔ العربیہ آزادانہ طور پر ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کر سکا۔

امریکی فوج نے بتایا کہ امریکی ریاست نارتھ ڈکوٹا میں مینوٹ ایئر فورس بیس سے بمبار ہفتے کی رات کو امریکی مرکزی کمان کے ذمہ داری والے علاقے میں پہنچ گئے۔

تھاڈ میزائل بھی گذشتہ ماہ اسرائیل میں تعینات کیا گیا تھا جس کے بارے میں امریکہ نے کہا کہ وہ اسرائیل میں امریکیوں کو ایران کے کسی بھی بیلسٹک میزائل حملے سے بچانے میں مدد فراہم کرے گا۔

خطے میں عام حالات سے زیادہ امریکہ کی بھاری فوجی نفرہ موجود ہے بشمول یو ایس ایس ابراہم لنکن طیارہ بردار حملہ آور گروپ۔

طیارہ بردار بیڑہ اور اس کے تباہ کن جہاز مرمت کے لیے جلد ہی امریکہ واپس آ جائیں گے اور حکام نے کہا ہے کہ اس کی جگہ ہیری ٹرومین طیارہ بردار حملہ آور گروپ لے لے گا جو اس وقت یورپی علاقے میں تعینات ہے۔

جیسا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان انتقامی حملے جاری ہیں تو ممکنہ غلط حساب کتاب اور اس کے نتیجے میں کشدگی میں اضافے کا امکان ایک سنگین تشویش کا باعث ہے جس سے کئی محاذوں پر وسیع شدہ اور طویل تنازعہ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

امریکی حکام کی ثالثی کی کوششوں کے باوجود غزہ اور لبنان کی جنگ تشویش کا ایک اور بڑا سبب بنی ہوئی ہے جس کے ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔

بائیڈن انتظامیہ کے دو سینئر معاونین اموس ہوچسٹین اور بریٹ میک گرک حال ہی میں اسرائیل کے دورے سے واپس آئے ہیں۔ ہوچسٹین ایک ہفتہ قبل بیروت میں تھے۔

ایک سینئر امریکی اہلکار نے العربیہ کو بتایا کہ اسرائیل میں ہونے والے مذاکرات "گذشتہ ہفتے بیروت میں ہونے والی مثبت بات چیت کا بہت اچھا فالو اپ تھا۔ تفصیلی اور ٹھوس مذاکرات جنگ بندی کے راستے پر ہیں۔

اب جبکہ امریکی صدارتی انتخابات میں دو ہی دن باقی ہیں تو کوئی معاہدہ طے پانے کا امکان گھٹتا جا رہا ہے جس سے کسی بھی محاذ پر کشیدگی میں کمی ہو۔ انتخابات کے نتائج امریکی نقطۂ نظر اور آئندہ کسی بھی قرارداد کے امکانات کو نمایاں طور پر متأثر کر سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں