بھارت میں آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں، تعمیراتی مقامات کے مالکان کو جرمانہ
پورے جنوبی ایشیا میں موسمِ سرما کی آلودگی ایک عمومی مسئلے کی صورت اختیار کر جاتا ہے
بھارت کے دارالحکومت اور گرد و پیش کے علاقوں میں حکام نے ہزاروں گاڑیوں اور تعمیراتی مقامات کے مالکان کو آلودگی کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانے کیے ہیں۔ اس کی وجہ گذشتہ تین ہفتوں کے دوران ہوا کے انڈیکس کے معیار میں کمی کا مقابلہ کرنا ہے۔
سوئس گروپ آئی کیو ایئر نے اپنی لائیو رینکنگ میں کہا کہ نئی دہلی دنیا کا آلودہ ترین بڑا شہر ہے۔
مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) نے پیر روز شہر کے ایئر کوالٹی انڈیکس کو 'بہت خراب' قرار دیا تھا جس کی وجہ سے بھارتی حکام نے تقریباً 60,000 گاڑیوں اور 7,500 سے زیادہ تعمیراتی عمارات کو جرمانہ کیا۔ شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس 373 تھا جبکہ عالمی معیار کے مطابق صفر سے 50 درجے تک کا انڈیکس اچھی ایئر کوالٹی کو ظاہر کرتا ہے۔
کمیشن فار ایئر کوالٹی منیجمنٹ نے کہا کہ تقریباً 54,000 گاڑیوں کے پاس پولوشن انڈر کنٹرول (پی یو سی) سرٹیفکیٹ نہیں تھا۔ یہ سرٹیفکیٹ گیسوں کے اخراج کی قابلِ اجازت سطح ظاہر کرتا ہے۔ نیز شہر میں تقریباً 3,900 پرانی گاڑیوں کو ضبط کیا گیا۔
کم سے کم 597 تعمیراتی مقامات کو ماحول خراب کرنے کی پاداش میں زر تلافی ادا کرنے، جبکہ 56 کو بند کرنے کا حکم دیا گیا۔
نئی دہلی کو ہر موسمِ سرما میں شدید آلودگی کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے کیونکہ گاڑیوں کی آلودگی، دھول اور پنجاب اور ہریانہ کی ملحقہ ریاستوں میں کھیتوں میں فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے سے پیدا ہونے والا دھواں ٹھنڈی ہوا میں معلق ہو جاتا ہے جس کے باعث سموگ پیدا ہوتی ہے۔ اس بنا پر سکول بار بار بند کرنا پڑتے ہیں اور تعمیراتی کام پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔
ارضیاتی سائنس کی وزارت نے کہا، خطے میں ہوا کا معیار بدھ تک 'بہت خراب' رہنے کی توقع ہے اور اگلے چھ دنوں تک 'انتہائی ناقص' سے 'شدید' تک رہنے کا امکان ہے۔
سی پی سی بی نے کہا ہے کہ 401 اور 500 کی درمیان کی شدید درجہ بندی صحت مند افراد کو متأثر کرتی ہے اور پہلے سے بیماری میں مبتلا لوگوں پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
سی پی سی بی نے مسلسل چار سالوں سے نئی دہلی کو دنیا کا آلودہ ترین دارالحکومت قرار دیا ہے لیکن خراب ہوا کا معیار پورے جنوبی ایشیا میں موسمِ سرما کا ایک عام مسئلہ ہے۔
یونیورسٹی آف شکاگو کے انرجی پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ای پی آئی سی) نے گذشتہ سال اپنے ایئر کوالٹی لائف انڈیکس میں کہا تھا، بڑھتی ہوئی آلودگی جنوبی ایشیائی باشندوں کی متوقع عمر کو پانچ سال سے زیادہ کم کر سکتی ہے۔
پاکستان کا دوسرا بڑا شہر لاہور جسے آئی کیو ایئر نے پیر کو دنیا کا دوسرا آلودہ ترین شہر قرار دیا، وہاں بھی پرائمری سکول ایک ہفتے کے لیے بند کر دیئے گئے ہیں اور لوگوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ غیر معمولی آلودگی کے درمیان گھروں کے اندر رہیں۔
اتوار کے روز لاہور کی صوبائی حکومت نے کہا کہ اس نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بھارت کے ساتھ بات چیت کا منصوبہ بنایا اور ہمسایہ ملک سے پھیلنے والی آلودگی کو ہوا کے خراب ہوتے ہوئے معیار کا ذمہ دار قرار دیا۔