ایمسٹرڈیم میں شہریوں کے خلاف ’انتہائی پرتشدد واقعہ‘ اسرائیل کی طرف سے امدادی ٹیم روانہ
اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر نے واقعے کو یہود دشمنی قرار دیا
اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ہدایت کی ہے کہ اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بنانے والے ایک "انتہائی پرتشدد واقعے" کے بعد فوری طور پر دو امدادی طیارے ایمسٹرڈیم بھیجے جائیں۔ یہ بات جمعہ کو ایک فٹ بال میچ سے منسلک حملوں کی اطلاع کے بعد ان کے دفتر نے کہی۔
وزیرِ اعظم کے دفتر نے ایک دوسرے بیان میں کہا کہ اسرائیل کی قومی سلامتی کی وزارت نے بھی حملوں کے بعد ڈچ شہر میں اپنے شہریوں سے ہوٹل کے کمروں میں ہی رہنے کی تاکید کی ہے۔
اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، "جو شائقین فٹ بال میچ دیکھنے گئے تھے، انہیں یہود دشمنی کا سامنا کرنا پڑا اور ان پر صرف ان کی یہودیت اور اسرائیلیت کی وجہ سے ناقابلِ تصور حد تک ظالمانہ حملہ کیا گیا۔"
مقامی پولیس نے کہا کہ کھیل کے بعد 57 افراد کو حراست میں لیا گیا کیونکہ فلسطینی حامی مظاہرین نے جوہان کروف سٹیڈیم تک پہنچنے کی کوشش کی حالانکہ شہر نے انہیں وہاں احتجاج کرنے سے منع کیا تھا۔
پولیس نے کہا کہ شائقین بغیر کسی واقعے کے سٹیڈیم سے چلے گئے تھے لیکن رات کے وقت شہر کے مرکز میں مختلف جھڑپوں کی اطلاع ملی۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ فٹ بال میچ کے بعد ہالینڈ کی حکومت کے تعاون سے فوری طور پر ایک ریسکیو مشن کو تعینات کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ میچ میں روایتی طور پر یہودی کلب کے طور پر شناخت کردہ ایجیکس ایمسٹرڈیم نے مکابی تل ابیب کو پانچ-صفر سے شکست دی۔
اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا، "مشن نقل و حمل کے طیارے کا استعمال کرتے ہوئے تعینات کیا جائے گا اور اس میں طبی اور ریسکیو ٹیمیں شامل ہوں گی۔"
سوشل میڈیا پر ویڈیو میں ہجوم کو سڑکوں پر بھاگتے ہوئے اور ایک شخص کو مارتے ہوئے دکھایا گیا۔
ہالینڈ کی وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی حکومت کے بیانات پر کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا۔
غزہ جنگ یورپ اور امریکہ کے طول و عرض میں فریقین کی حمایت میں مظاہروں کا باعث بنی ہے اور عربوں اور یہودیوں پر حملے ہوئے ہیں۔
ڈچ حکومت کی سب سے بڑی پارٹی کے رہنما اور مسلم مخالف سیاست دان گیئرٹ وائلڈرز نے ایکس پر ایک پوسٹ میں ایمسٹرڈیم کے مبینہ حملوں کی مذمت کی۔
انہوں نے کہا، "شرم کی بات ہے کہ ہالینڈ میں ایسا ہو سکتا ہے۔ یہ مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔"
اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈون سار نے اپنے ڈچ ہم منصب کیسپر ویلڈکیمپ کو فون پر کہا ہے کہ ڈچ حکومت اسرائیلی شہریوں کو ایئرپورٹ پر بحفاظت پہنچنے میں مدد کرے۔