اسرائیل کا اقوام متحدہ کی قرارداد روکنے لیے لبنان میں جنگ بندی پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیل کے عبرانی چینل 12 نے ایک رپورٹ میں کہا ہےکہ اسرائیل لبنان میں جنگ بندی پر غور کر رہا ہے تاکہ اس کے خلاف سلامتی کونسل کی قرارداد جاری ہونے روکا جا سکے۔

اسرائیلی فوج نے اتوار کی صبح اطلاع دی تھی کہ اس نے جنوبی لبنان سے آٹھ میزائل داغے جانے کی نگرانی نشاندہی کی۔ العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے بتایا کہ شمالی اسرائیل کی مطولہ بستی میں ایک بیراج کے بعد سائرن بجائے گئے۔ جب کہ لبنان سے کریات شمونہ اور آس پاس کی بستیوں کی طرف میزائل داغے گئے۔

اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ اسٹریٹجک امور کے وزیر شمالی اسرائیل پر مذاکرات کے لیے واشنگٹن روانہ ہو گئے ہیں۔

قبل ازیں ’یدیعوت احرونوت‘ نے سیاسی ذرائع کے حوالے سے انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔

امریکی حکام نے امریکی صدر بائیڈن کے ایلچی، اموس ہوچسٹین کی کوششوں اور نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حوصلہ افزائی سے جنگ بندی تک پہنچنے کے بڑھتے ہوئے امکانات کا اشارہ دیا تھا۔

درایں اثنا العربیہ اور الحدث کے نامہ نگاروں نے بتایا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر 70 سے زیادہ حملے کیے ہیں۔

دوسری جانب حزب اللہ نے اعلان کیا کہ اس نے پہلی بار اسرائیلی "مالم" ملٹری فیکٹری اور عین خزلوت اڈے کو نشانہ بنایا۔ جو لبنان اسرائیل سرحد سے 55 کلومیٹر دور بحیرہ روم کے جنوب میں الجلیل میں واقع فوجی مواصلاتی اڈہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں