ایمسٹرڈیم میں حال ہی میں اسرائیلی اور ایک مقامی ٹیم کے درمیان فٹبال میچ کے بعد تشدد کا واقعہ پیش آیا تھا جس کے بعد حکام نے اسرائیلی شائقین پر زور دیا ہے کہ وہ پیرس میں جمعرات کو ہونے والا فرانس-اسرائیل فٹ بال میچ چھوڑ دیں۔
پیرس کا میچ اس جھڑپ کے ایک ہفتے بعد ہو گا جسے اسرائیلی، ڈچ اور یورپی رہنماؤں نے "یہود مخالف" قرار دیا تھا۔ یہ واقعہ اسرائیلی کلب مکابی تل ابیب اور ڈچ ٹیم ایجیکس کے درمیان میچ میں ہوا تھا۔
اس واقعے میں تقریباً دو درجن افراد زخمی ہوئے تھے۔
اتوار کو ایک بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل نے مطالبہ کیا کہ "اسرائیلی شائقین ان کھیلوں/ثقافتی پروگراموں میں شرکت سے گریز کریں جن میں اسرائیلی شامل ہوں، بالخصوص پیرس میں اسرائیلی قومی ٹیم کا آئندہ میچ۔"
نیز کہا گیا، "اسرائیلی قومی ٹیم کے آئندہ میچ کے موقع پر جو گروپ اسرائیلیوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، ان کی شناخت کئی یورپی شہروں میں ہوئی ہے" جن میں برسلز، برطانیہ کے بڑے شہر، ایمسٹرڈیم اور پیرس شامل ہیں۔
کونسل نے بیرون ملک اسرائیلیوں کو قابلِ شناخت نشانات کے استعمال سے بھی خبردار کیا جن سے ان کا اسرائیلی یا یہودی ہونا ظاہر ہو۔
پیرس پولیس کے سربراہ لارینٹ نونیز نے فرانس اور اسرائیل کے آئندہ میچ کو ہائی رسک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سٹیڈیم میں، پبلک ٹرانسپورٹ پر اور فرانس کے دارالحکومت میں 4000 اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
اسرائیلی حکام نے مداحوں کو اطالوی شہر بولوگنا میں جمعے کے روز مکابی تل ابیب کے باسکٹ بال میچ میں شرکت سے بھی خبردار کیا تھا جو بغیر کسی واقعے کے ختم ہو گیا۔