اسرائیلی فٹ بال کے حامیوں کے خلاف حملوں کے کیس میں پانچ نئی گرفتاریاں کیں: ڈچ پولیس
واقعے کی وسیع پیمانے پر یہود مخالف کے طور پر مذمت کی گئی
ڈچ پولیس نے پیر کے روز کہا کہ انہوں نے مزید پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر اسرائیلی فٹ بال کے حامیوں پر حملوں میں ملوث ہونے کا شبہہ ہے۔ گذشتہ ہفتے کے آخر میں پیش آنے والے اس واقعے کی حکام نے یہود دشمنی کے طور پر مذمت کی ہے۔
پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مشتبہ افراد 18 سے 37 سال کے آدمی ہیں جو ہالینڈ میں رہتے ہیں۔ پہلے 63 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔
قبل ازیں پیر کو ہالینڈ کے وزیرِ اعظم ڈک شوف نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ نیدرلینڈز تشدد کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائے گا۔
شوف نے ایک پریس کانفرنس میں کہا، "ایمسٹرڈیم کی تصاویر اور رپورٹس اور جو ہم نے اس ہفتے کے آخر میں اسرائیلیوں اور یہودیوں کے خلاف یہود دشمنی کے حملے دیکھے ہیں، وہ چونکا دینے والے اور قابل مذمت سے کم نہیں۔" نیز انہوں نے کہا، پولیس اور استغاثہ بدستور اس واقعے کی تفصیلات جمع کر رہے ہیں۔
جمعہ کی صبح اسرائیلی فٹ بال کے حامیوں پر یہ حملے میکابی تل ابیب اور ایجیکس ایمسٹرڈیم کے درمیان میچ کے بعد ہوئے جس میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ ڈچ حکام اور اسرائیل کے وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو سمیت غیر ملکی رہنماؤں نے انہیں یہود دشمنی قرار دیا۔
حملوں کے بعد اسرائیل نے میکابی کے حامیوں کو وطن واپس لانے کے لیے اضافی طیارے بھیجے۔
جمعرات کو میچ سے قبل میکابی کے حامیوں اور مقامی لوگوں کے درمیان بھی تصادم ہونے کی خبروں پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے شوف نے کہا کہ اسرائیلی حامیوں کے خلاف تشدد کا کوئی جواز نہیں تھا۔
ہالینڈ کی پولیس نے کہا ہے کہ بدھ کو میکابی کے شائقین نے ایمسٹرڈیم میں ایک ٹیکسی پر حملہ اور فلسطینی پرچم نذرِ آتش کیا۔ کھیل کے دن میکابی کے حامیوں کو ویڈیوز میں عرب مخالف نعرے لگاتے ہوئے دکھایا گیا جن کی رائٹرز نے تصدیق کی۔
شوف نے کہا، "ہم اس سے بخوبی واقف ہیں کہ میکابی کے حامیوں کے ساتھ پہلے کیا ہوا تھا لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ایک مختلف نوعیت کا معاملہ ہے اور ہم کسی بھی تشدد کی مذمت بھی کرتے ہیں لیکن اس رات ایمسٹرڈیم میں یہودیوں پر ہونے والے حملوں کے بعد جو کچھ بھی ہوا، اس کے لیے کوئی عذر نہیں ہے۔"