اسرائیل نے منگل کی شب لبنانی دار الحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے الضاحیہ پر فضائی حملے جاری رکھے۔ بعد ازاں جبل لبنان میں عرمون قصبے کی ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔
حملے میں عمارت کی پہلی اور دوسری منزل پر بم باری کی گئی۔ اس کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک ہو گئے۔ العربیہ کی نامہ نگار کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب عرمون میں کسی رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔
ادھر لبنان سے بھیجنے جانے والے ایک ڈرون طیارے نے بدھ کی صبح دوسری مرتبہ شمالی اسرائیل کی فضائی حدود میں در اندازی کی۔ اسرائیلی فوج کے اعلان کے مطابق اس ڈرون کو الجلیل (شمالی) میں مار گرایا گیا۔
اس چند گھنٹوں پہلے اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافات میں اللیکی، حارہ حریک اور الغبیری کے علاقوں پر فضائی حملے کیے۔ جنوب میں الضاحیہ کا یہ علاقہ ماضی میں حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔
اس دوران الضاحیہ کے علاقے سے دھوئیں کے گہرے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔ آبادی سے خالی ہونے کے بعد یہ علاقہ تقریبا مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔
منگل کی شب الضاحیہ پر 12 سے زیادہ سلسلہ وار شدید حملے ہوئے۔
یاد رہے کہ 23 ستمبر سے اسرائیل نے لبنان میں کئی علاقوں پر بم باری کا سلسلہ شدید کر دیا۔ ان میں جنوبی حصے، البقاع اور بیروت کے جنوبی مضافات کے علاوہ ملک کا مشرقی اور شمالی حصہ بھی شامل ہے۔
اسی طرح اسرائیل نے یکم اکتوبر سے جنوبی لبنان میں زمینی آپریشن بھی شروع کر دیا جسے وہ محدود کارروائی قرار دیتا ہے۔اس دوران اسرائیلی فوج بعض سرحدی قصبوں میں داخل ہو گئی۔
تاہم حزب اللہ یہ باور کراتی ہے کہ اسرائیلی فوج جنوب میں کسی بھی گاؤں یا قصبے پر مکمل قبضہ نہیں کر سکی۔ یہاں متحارب فریقین کے درمیان روزانہ جھڑپیں ہو رہی ہیں۔
اسرائیلی حملوں میں اب تک 3200 سے زیادہ لبنانی ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 12 لاکھ کے قریب افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔