محمود عباس کی ٹرمپ کے قریب جانے کی کوششیں، مگر نو منتخب امریکی صدر نےکیا جواب دیا

ابو مازن نے ٹرمپ کی کامیابی کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے "ایک منصفانہ اور جامع امن کے حصول کے لیے مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا"۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

فلسطینی صدر محمود عباس امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کو بحال کرنے کے لیے شطرنج کے کھیل کی طرح ایک پیچیدہ حکمت عملی تیار کر رہے ہیں، خاص طور پر ٹرمپ کی جانب سے اپنے پہلے دور حکومت میں اسرائیل کے لیے مبینہ حمایت کے بعد محمود عباس کے لیے ٹرمپ کے ساتھ خوش تعلقات کا قیام مشکل مرحلہ دکھائی دیتا ہے۔اس کا اندازہ منگل کو شائع ایک رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی جیت سے پہلے اور بعد میں ابو مازن کے "مقدمات" کے بارے میں بہت کچھ بتایا گیا ہے۔

امریکہ میں ووٹ ڈالنے سے پہلے محمود عباس ٹرمپ کے ساتھ رابطے کی بنیاد ڈال رہے تھے اور ٹرمپ کی بیٹی ٹفنی کے سسر لبنانی نژاد امریکی تاجر مسعد بولوس اکثر ثالث کا کردار ادا کرتے تھے۔ مسعد ٹفنی سے 2022ء میں اپنے بیٹے مائیکل کی شادی کے بعد سے ٹرمپ کے اندرونی حلقے میں ایک اہم کھلاڑی بن کر ابھرے ہیں

مسعد بولس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شروع سے ہی ٹرمپ کے مستقل حامی رہے ہیں۔ وہ وائٹ ہاؤس میں کرسمس 2019ء کے موقع پر ان سے ملاقات کے بعد امریکی سیاست میں تیزی سے متحرک ہو گئے تھے۔ پھر اس کے بیٹے کی ٹرمپ کی سب سے چھوٹی بیٹی سے شادی کے بعد اس کا اثر و رسوخ مزید بڑھ گیا۔ یہ اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب اس نے ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران ایک اہم کردار ادا کیا، جہاں وہ اہم ریاستوں میں عرب امریکی ووٹروں کو راغب کرنے میں کامیاب ہوئے۔

ٹرمپ کا جنگیں ختم کرنے کا ارادہ

محمود عباس نے گذشتہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پربولس سے ملاقات کی تھی۔ جبکہ فلسطینی حکام نے اس ملاقات کو عباس کی طرف سے ٹرمپ کے درمیان ایک سفارتی اقدام قرار دیا تھا۔ بولوس نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ یہ ملاقات "مکمل طور پر ذاتی" تھی اور اس نے ٹرمپ کو اس بارے میں نہیں بتایا گیا۔

ابو مازن کے قریبی ایک فلسطینی اہلکار زیاد ابو عمرو جو وہاں موجود تھےبولس کا پیغام پہنچایا کہ ٹرمپ "غزہ سمیت پوری دنیا میں جنگیں ختم کرنے" کے ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کے بعد بولس نے ڈاکٹر بشارہ بحبح جو کہ ایک فلسطینی نژاد اور ٹرمپ کے مداح ہیں محمود عباس کا ٹرمپ کو گزشتہ جولائی میں ایک خط پہنچایا تھا۔ اس مکتوب میں محمود عباس نے ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کی مذمت کی تھی۔ اس کے جواب میں ٹرمپ نے محمود عباس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ "سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا‘‘۔ ابو عمر کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے محمود عباس کے مکتوب کے جواب میں اچھے ریمارکس دیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اچھے کام کرنے والے تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ اس تنازعے کو حل کرنے میں امریکہ کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا"۔

بحبح کے مطابق گذشتہ ستمبر میں اپنی ملاقات کے دوران محمود عباس نے دو ریاستی حل کی بنیاد پر اسرائیل کے ساتھ امن کے لیے اپنی تیاری کا اظہار کیا اور مستقبل میں فلسطینی ریاست میں بین الاقوامی مبصرین کے سامنے کھلے پن کا اظہار کیا تاکہ اسرائیل کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

مسئلے کی جڑ بھاری ہتھیار ہیں

بولس نے لبنان کے ’ایل بی سی آئی‘ ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ ایک نئے ایرانی معاہدے کی تیاری کر رہے ہیں جو کہ "ایرانیوں، پڑوسی ممالک اور امریکہ کے لیے قابل قبول ہو گا"۔ انہوں نے انٹرویو میں ٹرمپ کی پالیسی پر زور دیتےہوئے کہا کہ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں امن کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔لبنان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ لبنانی اداروں کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن مسئلہ کی جڑ "اسٹریٹیجک اور بھاری ہتھیار"ہیں ہے، جو حزب اللہ کے پاس ہے۔

محمود عباس کے دفتر کے ایک بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انہوں نے ٹرمپ سے بات کی ہے۔ ان کی کامیابی کا خیر مقدم کیا اور "ایک منصفانہ اور جامع امن کے حصول کے لیے" مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں