امریکی حکومت گوگل کو کروم بیچنے پر کیوں مجبور کر رہی ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایک ایسے اقدام میں جس کا مقصد اجارہ داری کے طریقوں کا مقابلہ کرنا ہے امریکی حکومت نے عدلیہ سے کہا کہ وہ گوگل کو اپنا کروم براؤزر فروخت کرنے پر مجبور کرے۔ اس حوالے سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل پر اجارہ داری قائم کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

ایک عدالتی دستاویز سے انکشاف ہوا ہے کہ وزارت انصاف نے گوگل کی ان سرگرمیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس گروپ کو سمارٹ فون مینوفیکچررز (بشمول ایپل) کے ساتھ ایسے معاہدے کرنے سے روکنے کا کہا گیا ہے جو اس کے سرچ انجن کو اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم والے فونز میں بنیادی براؤزر بنا دیتے ہیں۔

وزارت بڑی کمپنی کو کروم کو ترک کرنے پر مجبور کرنا چاہتی ہے۔ یہ براؤزر دنیا میں سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ یہ براؤزر سرچ انجن میں داخل ہونے کا ایک اہم ذریعہ ہے تو یہ ممکنہ حریفوں کے مواقع کو کمزور کر دیتا ہے۔ خصوصی ویب سائٹ "StatCounter" کے مطابق ستمبر میں گوگل نے عالمی آن لائن سرچ مارکیٹ کے 90 فیصد حصے پر قبضہ کرلیا تھا۔

یہ درخواست امریکی حکومت کے مسابقتی حکام کی حکمت عملی میں ایک گہری تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان حکام نے تقریباً دو دہائیاں قبل مائیکروسافٹ کو توڑنے میں ناکامی کے بعد سے ٹیکنالوجی کے دیو ہیکل کمپنیوں کو اپنے راستے پر چھوڑ دیا تھا۔

بحران کب شروع ہوا؟

یہ بحران اس وقت شروع ہوا جب ڈونالڈ ٹرمپ کے پہلے دور صدارت کے دوران گوگل کے خلاف اجارہ داری کا مقدمہ درج کیا گیا ۔ امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں یہ مقدمہ جاری رہا۔ مقدمے کا مقصد دیو ہیکل ٹیکنالوجی کمپنی کو لگام دینا اور اس کی اجارہ داری کو توڑنا ہے۔

خاص طور پر "کروم" سرچ براؤزر کا مالک ہونا گوگل کے اشتہاری کاروبار کی کلید ہے۔ کروم کمپنی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ رجسٹرڈ صارفین کی سرگرمیاں دیکھ سکے اور پھر ان سرگرمیوں اور ڈیٹا کو ایڈز اور پروموشنز کے ذریعے نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرے۔ گوگل اس براؤزر کا استعمال صارفین کو اپنی مصنوعی ذہانت والی پروڈکٹ جیمنی کی طرف لے جانے کے لیے بھی کرتا ہے۔

اربوں کی ادائیگی

وفاقی جج امیت مہتا نے گزشتہ اگست میں ایک فیصلہ جاری کیا تھا جس میں انہوں نے تصدیق کی تھی کہ گوگل نے سرچ مارکیٹ پر غیر قانونی طور پر اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔ اس وقت یہ بھی انکشاف کیا گیا تھا کہ اس نے صرف 2021 میں 26.3 بلین ڈالر ادا کیے تھے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اس کا سرچ انجن سمارٹ فونز اور براؤزنگ پروگراموں پر خودکار انجن ہوگا۔ گوگل کو امریکہ اور یورپی یونین دونوں میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزیوں کے شبہات کے پس منظر میں ایک وسیع تر قانونی مہم کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں