میئرز کی برطرفی پر ترک پارلیمنٹ میں ہنگامہ

پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن ریپبلکن پیپلز پارٹی کے نمائندوں اور وزیر داخلہ کے درمیان ہاتھا پائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ترکیہ میں میئرز کی برطرفی کے معاملے پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔ اپوزیشن ارکان اور وزیر داخلہ کے درمیان ہاتھا پائی ہوگئی۔

خبر کے ذریعے ریکارڈ کی گئی ویڈیو فوٹیج کے مطابق ریپبلکن پیپلز پارٹی کے نمائندے علی ماہر بشاریر نے یرلی کایا کو ہال میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی تو جھگڑا شروع ہوا اور بڑھتا گیا ۔ دوسرے نمائندوں نے ہال کے دروازے کے سامنے ان کے درمیان لڑائی کو ختم کرنے کے لیے مداخلت کی۔

ویب سائٹ ’’ ٹی 24‘‘ کی رپورٹ کے مطابق حزب اختلاف کی جماعت کے نمائندوں نے کہا کہ آپ نے ہمیں ’’ایسنیرٹ‘‘ کی میونسپلٹی میں رہنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا لہذا ہم پارلیمنٹ میں آپ کی موجودگی کو قبول نہیں کرتے۔ ترک پارلیمنٹ میں اس سے قبل بھی حکمران اتحاد کے نمائندوں اور اس کے مخالفین کے درمیان کانٹے دار مسائل کی وجہ سے کشیدگی سامنے آتی رہی ہے۔

حزب اختلاف کی جماعت کے نمائندوں نے’’ایسنیرٹ‘‘ کے منتخب میئر احمد اوزر کو ان کے عہدے سے ہٹائے جانے پر اعتراض کیا۔ نومبر کے اوائل میں سینکڑوں افراد نے وزارت داخلہ کے درمیان رابطے کے بہانے بھی میئر کو برطرف کرنے کے فیصلے کے خلاف مظاہرے کیے تھے۔ وہ اور کردستان ورکرز پارٹی انقرہ کے خلاف مسلح بغاوت کر رہے ہیں۔

ریپبلکن پیپلز پارٹی کے رہنما اوزگور اوزل نے اپنی جماعت سے تعلق رکھنے والے میئر کی برطرفی کو جمہوریت کے خلاف بغاوت قرار دے دیا جسے کرد نواز ’پیپلز ڈیموکریٹک‘ پارٹی کے میئرز نے بارہا دہرایا۔ انہوں نے پارٹی کا نام بدل کر "ایکویلٹی اینڈ پیپلز ڈیموکریسی" پارٹی رکھا تھا۔

واضح رہے ترکیہ کی وزارت داخلہ نے نومبر کے اوائل میں احمد اوزر کے ساتھ ملک کے جنوب مشرق میں تین دیگر میئروں کو برطرف کر دیا تھا جن کا تعلق کرد نواز "ایکویلٹی اینڈ پیپلز ڈیموکریسی" پارٹی سے ہے۔ مزید جن میئرز کو برطرف کیا گیا ان میں ماردین کے میئر احمد ترک، بیٹ مین کے گولستان شانوک اور ہلفیتی کے میئر مہمت کرائلان شامل تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں