آئی سی سی کے اقدام کے بعد ہم نیتن یاہو کو ہنگری آنے کی دعوت دیں گے: وزیرِ اعظم ہنگری

جمہوریہ چیک کے وزیرِ اعظم کی نیتن یاہو اور الضیف کو برابر قرار دینے پر مایوسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

وزیرِ اعظم وکٹر اوربان نے جمعہ کے روز کہا کہ وہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو ہنگری کے دورے کی دعوت دیں گے اور کہا کہ وہ اس بات کی ضمانت دیں گے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ پر"عملدرآمد نہ کیا جائے۔"

آئی سی سی نے جمعرات کو نیتن یاہو اور ان کے سابق دفاعی سربراہ کے ساتھ ساتھ حماس کے رہنما ابراہیم المصری المعروف محمد الضیف کے خلاف غزہ تنازع میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔

اوربان جن کے ملک کے پاس اس وقت یورپی یونین کی چھے ماہ کی گردشی صدارت ہے، نے سرکاری ریڈیو کو بتایا کہ آئی سی سی کی جانب سے گرفتاری کا وارنٹ "غلط" تھا اور کہا کہ اسرائیلی رہنما ہنگری میں "تسلی بخش حفاظت میں" مذاکرات کر سکیں گے۔

اوربان نے کہا، "آج میں اسرائیل کے وزیرِ اعظم جناب نیتن یاہو کو ہنگری کے دورے کی دعوت دوں گا اور اس کے لیے میں ضمانت دوں گا کہ اگر وہ آتے ہیں تو ہنگری میں آئی سی سی کے فیصلے کا کوئی نفاذ نہیں ہو گا اور ہم اس کے مندرجات پر عمل نہیں کریں گے۔"

2010 میں اوربان اور ان کی قوم پرست فیڈز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ان کے اور نیتن یاہو کے درمیان قریبی سیاسی تعلقات استوار ہوئے ہیں۔

نیتن یاہو نے 2017 میں ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ کا دورہ کیا تھا۔

اسرائیلی رہنماؤں اور وائٹ ہاؤس نے آئی سی سی کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے جبکہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے کہا کہ وارنٹ سیاسی نہیں تھے اور یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کو عدالتی فیصلے کا احترام اور اس پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔

یورپی یونین کے اندر ہنگری اور جمہوریہ چیک اسرائیل کے مضبوط حمایتی رہے ہیں جبکہ سپین اور آئرلینڈ جیسے ممالک فلسطینیوں کی حمایت پر زور دیتے ہیں۔

چیک وزارتِ خارجہ نے آئی سی سی کے فیصلے پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دارالحکومت پراگ اپنی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کا احترام کرے گا۔

تاہم چیک کے وزیرِ اعظم پیٹر فیالا نے آئی سی سی کے فیصلے کو "بدقسمت" قرار دیتے ہوئے جمعرات کو ایکس پر کہا: "جب ایک جمہوری ریاست کے منتخب نمائندوں کو ایک اسلامی دہشت گرد تنظیم کے رہنماؤں کے برابر قرار دے دیا جائے تو (یہ اقدام) دوسرے معاملات میں عدالت کے اختیار کو کمزور کر دیتا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں