انسانیت کے خلاف جرائم پر سزا، اقوام متحدہ کی کمیٹی کی قرارداد منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایک اہم کمیٹی نے جمعہ کو ایک قرارداد منظور کی جس میں انسانیت کے خلاف جرائم کی روک تھام اور ان پر سزا دینے کے اولین معاہدے پر مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔

اس قرارداد کو اسمبلی کی قانونی کمیٹی نے اتفاقِ رائے سے منظور کیا جس میں اقوامِ متحدہ کے تمام 193 رکن ممالک شامل ہیں۔ قبل ازیں قرارداد کے حامیوں اور روس کے درمیان آخری لمحات تک کشیدگی جاری رہی۔

کمیٹی کے چیئرمین نے قرارداد کی منظوری دی تو زوردار تالیاں بجیں۔ جب چار دسمبر کو جنرل اسمبلی میں اس پر حتمی رائے دہی ہو گی تو اسے اختیار کرنا یقینی ہو گا۔

ہیومن رائٹس واچ کے سینئر قانونی مشیر رچرڈ ڈکر نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا، "ایک انتہائی ضروری بین الاقوامی معاہدے پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے آج کا معاہدہ ایک تاریخی کامیابی ہے جو ایک طویل عرصے کے بعد ملی ہے۔"

انہوں نے کہا، "یہ ایک اہم پیغام دیتا ہے کہ ایتھوپیا، سوڈان، یوکرین، جنوبی اسرائیل، غزہ اور میانمار میں شہریوں پر ہونے والے مظالم کی معافی کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔"

اقوامِ متحدہ میں روس کی نائب سفیر ماریا زابولوتسکایا نے کہا کہ روس نے "سمجھوتے کے جذبے سے" ترامیم واپس لے لیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ روس "خود کو متفقہ رائے سے الگ کر رہا ہے۔"

لیکن زبولوتسکایا نے کمیٹی کو بتایا، "یقیناً اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اس اہم کنونشن پر کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔"

یاد رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے بڑے مجرمان کو سزا دینے کے لیے قائم کی گئی تھی اور اس میں 124 ممالک شامل ہیں جو اس کے فریق ہیں۔ آئی سی سی نے کہا ہے کہ انسانیت کے خلاف جرائم شہریوں پر بڑے پیمانے پر حملے کی صورت میں کیے جاتے ہیں اور اس میں قتل، عصمت دری، قید، جبری گمشدگی، جنسی غلامی، تشدد اور ملک بدری سمیت 15 اقسام کے مظالم کی فہرست دی گئی ہے۔

لیکن آئی سی سی کا دائرہ اختیار تقریباً 70 دیگر ممالک پر نہیں ہے۔

ایسے عالمی معاہدے موجود ہیں جو جنگی جرائم، نسل کشی اور تشدد کا احاطہ کرتے ہیں - لیکن انسانیت کے خلاف جرائم سے نمٹنے کے لیے کوئی خاص معاہدہ نہیں کیا گیا ہے۔ اور قرارداد کے سپانسرز کے مطابق میکسیکو اور گیمبیا کے زیرِ قیادت اور 96 دیگر ممالک کی حمایت سے ایک نیا معاہدہ اس خلا کو پُر کر دے گا۔

گلوبل جسٹس سینٹر کے قانونی مشیر کیلی ایڈمز نے بھی کئی بار تاخیر کے بعد اس قرارداد کو "ایک تاریخی پیش رفت" قرار دیا۔

"دنیا بھر میں انسانیت کے خلاف جرائم کے پھیلاؤ" کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ایک "مضبوط، ترقی پسند اور زندہ بچ جانے والوں کی حمایت پر مرکوز" معاہدہ ہو گا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل اگنیس کالمارڈ نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ قرارداد کا وقت 2029 تک مؤخر کر دیا گیا ہے لیکن انہوں نے کہا، "اہم بات یہ ہے کہ یہ طریقہ ایک قابلِ عمل کنونشن فراہم کرے گا۔"

نیز انہوں نے کہا، "یہ طویل عرصے سے التواء کا شکار ہے اور ایک ایسے وقت میں بہت زیادہ خوش آئند ہے جب کئی ریاستیں بین الاقوامی قانون اور عالمی معیارات کو پامال کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ یہ ایک واضح علامت ہے کہ ریاستیں بین الاقوامی انصاف کے لائحہ عمل کو تقویت دینے اور ان وحشیانہ جرائم کے مرتکب افراد کے لیے تفتیش اور قانونی چارہ جوئی سے محفوظ پناہ گاہوں کو سختی سے روکنے کے لیے تیار ہیں۔"

قرار داد کی منظوری کے بعد گیمبیا کے کونسلر نے اس کی منظوری کو "تبدیلی لانے کے لیے زندگی میں ملنے والا واحد موقع" قرار دیا تاکہ "انسانیت کے خلاف جرائم کے بغیر ایک دنیا کی امید" پیدا ہو جہاں متأثرین کی آوازیں ان کے مجرموں سے زیادہ بلند ہوں۔=

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں