ترکیہ میں بھیانک اسکینڈل ، ڈاکٹروں اور طبی عملے نے 12 شیر خواروں کی جان لے لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ترکیہ میں کئی دنوں سے اس بھیانک جرم کی تفصیلات گردش میں ہیں جس نے ملک میں صحت کے شعبے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس مجرمانہ کارروائی کے نتیجے میں ہسپتالوں میں کم از کم 12 نومولود بچے ہلاک ہو گئے جب کہ دیگر کئی مستقل معذوری کا شکار ہو گئے۔

عدلیہ نے طبی سیکٹر میں 47 کارکنان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی جن میں سے 22 افراد ابھی تک زیر حراست ہیں۔ ان افراد میں ڈاکٹروں کے علاوہ مرد اور خواتین نرس شامل ہیں جن پر کم از کم 12 نوزائیدہ بچوں کی موت اور صحت کے بیمہ نظام میں جعل سازی کا الزام ہے۔

مزید یہ کہ ترکیہ میں 'نومولودوں کا گروہ' کا ہیش ٹیگ سوشل میڈیا پر پھیل چکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مذکورہ افراد پر الزامات کی فہرست 1399 صفحات پر مشتمل ہے جو استنبول شہر میں سپریم کرمنل کورٹ کے ہال میں پڑھی گئی۔ مقدمے کی پہلی سماعت کا آغاز پیر کے روز ہوا تھا اور یہ سلسلہ ہفتہ وار چھٹی سے قبل کل جمعے تک جاری رہا۔

الزامات کی فہرست میں انکشاف ہوا ہے کہ طبی کارکنان کے مذکورہ گروہ نے استنبول میں ہنگامی طبی مراکز کے ملازمین کے ساتھ تعاون کیا تا کہ نومولود بچوں کو نجی ہسپتالوں میں منتقل کیا جا سکے۔ ان افراد کے بیچ خفیہ سمجھوتے طے پائے گئے تا کہ بچوں کو غیر ضروری عرصے کے لیے انتہائی نگہداشت کے یونٹوں (آئی سی یو) میں رکھا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے جعلی ادویات اور جعلی طبی رپورٹوں کا استعمال کیا گیا جن میں ان بچوں کی حالت خطرے میں ہونے کے دعوے کیے جاتے تھے۔

استنبول میں پبلک پراسیکیوٹر کی جانب سے کرائی گئی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس گروہ نے بھاری رقوم حاصل کرنے کے لیے سوشل سیکورٹی سسٹم کا استحصال کیا۔ اس سے قبل رپورٹوں میں جعل سازی کی گئی جن میں فوت ہونے والے بچوں کو زندہ ظاہر کیا گیا تا کہ مالی واجبات حاصل کیے جا سکیں۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہر بچے کے لیے مختص یومیہ تقریبا آٹھ ہزار لیرا ( 230 امریکی ڈالر) کی رقم حاصل کی گئی۔

اس معاملے پر ہنگامہ برپا ہونے کے باوجود گروہ کے افراد نے شیر خوار بچوں کی موت میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔ ان افراد نے باور کرایا کہ انھوں نے بچوں کو زندہ رکھنے کے لیے بہترین ممکنہ فیصلے کیے۔

اس گروہ کے ساتھ ملوث ہسپتالوں کی تعداد 19 تک ہے جن میں سے 10 کے ملوث ہونے کی تصدیق کے بعد ان کے لائسنس منسوخ کر دیے گئے۔

گروہ کا سرغنہ فرات ساری نامی ایک ڈاکٹر ہے۔ وہ اور دیگر دو افراد اس مقدمے میں مرکزی ملزم ہیں۔ ان تین افراد اور دیگر 19 زیر حراست ملزمان کو عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

اس معاملے کی تفصیلات ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن تک بھی پہنچ گئیں۔ انھوں نے گذشتہ ماہ کے اواخر میں اعلان کیا تھا کہ بچوں کی وفات کے ذمے دار افراد کو شدید سزائیں دی جائیں گی۔ ساتھ ہی انھوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے واقعات کی تمام ذمے داری ملک میں صحت کی نگہداشت کے نظام پر عائد ہوتی ہے۔

متاثرہ بچوں کے اہل خانہ بھی اس "گروہ" کے افراد کے خلاف سخت ترین سزاؤں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ترکیہ میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے موجودہ اور سابق وزیر صحت اور حکومت کے دیگر ذمے داران کو شیر خوار بچوں کی وفات کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں