جاپان میں جوتے چوری کے واقعات کے بعد کیمرے نے چور کا بھانڈہ کیسے پھوڑا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

جاپانی پولیس کا کہنا ہے کہ ایک چور جانور جنوب مغربی جاپان میں ایک کنڈرگارٹن میں جوتے چرا رہا تھا مگر سکول میں لگے خفیہ کیمرے نے اس واردات کا بھانڈا پھوڑ دیا۔

فوکوکا پریفیکچر کے سکول میں پولیس کی جانب سے تین کیمرے نصب کیے جانے کے بعد کیمرے کے ذریعے ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں ایک چھوٹے سے نیزل کو اپنے منہ میں جوتا لیے ہوئے تھا۔

ڈپٹی پولیس چیف ہیروکی انڈا نے اتوار کو ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ’یہ اچھی بات ہے کہ یہ انسان نہیں تھا‘۔

اساتذہ اور والدین اس بات پر فکر مند تھے کہ جوتا چور جوتوں کے جنون میں مبتلا کوئی شخص ہوسکتا ہے۔

جاپان میں یہ رواج ہے کہ لوگ گھروں میں داخل ہونے سے پہلے اپنے جوتے اتار دیتے ہیں۔ غائب ہونے والے جوتے بچے سکول کے اندر پہنتے تھے۔ وہ دروازے کے قریب الماری میں محفوظ تھے۔

یہ بات مشہور ہے کہ جو لوگ نیزل کو پالتو جانور کے طور پر پالتے ہیں وہ اسے کھلونے دیتے ہیں تاکہ وہ اسے چھپا سکے، کیونکہ یہ چیزیں چھپانے کے لیے مشہور ہے۔

اس نے جوتے مختلف جگہوں پر چھپا رکھے تھے اور پولیس سے رابطہ کرنے سے پہلے 15 جوتے غائب تھے۔ اگلے دن اس نے مزید چھ جوتے اٹھائے۔ نیزل 12 نومبر کو ایک اور جوتا چرانے کے لیے واپس آیا تو اسے کیمرے میں جوتا چوری کرتے ریکارڈ کرلیا گیا۔

اگرچہ چوری شدہ جوتے ابھی تک نہیں مل سکے ہیں، لیکن باقی جوتے اب کنڈرگارٹن میں محفوظ ہیں جب کہ لاکرز پر جال لگادیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں