اسرائیل ایران معاہدے میں رکاوٹ بن سکتا ہے:امریکی انٹیلی جنس کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی انٹیلی جنس اداروں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو ممکنہ طور پر ایسے اقدامات کر سکتے ہیں ،جو امریکا کی ایران کے ساتھ مستقل امن معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کو نقصان پہنچائیں۔

امریکی موجودہ اور سابق حکام کے مطابق نیتن یاہو کو اندرونی سیاسی دباؤ کا بھی سامنا ہے، جس کے باعث وہ لبنان میں جنگ جاری رکھنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

تجزیوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کے خلاف لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کے ارادے پر قائم دکھائی دیتا ہے، جو اس مفاہمتی معاہدے کے ایک بنیادی نکتے سے متصادم ہے ،جو صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان طے پایا تھا، جس میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر دشمنی کے خاتمے کی شق شامل تھی۔

نیتن یاہو کا سیاسی مستقبل

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نئی امریکی انٹیلی جنس رپورٹ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ بنیامین نیتن یاہو کا سیاسی بقا، آئندہ موسمِ خزاں میں ہونے والے قومی انتخابات کے پیش نظر اس بات سے جڑا ہوا ہے کہ وہ اپنی داخلی رائے عامہ کو یہ دکھائیں کہ وہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کو واپس نہیں بلائیں گے اور حزب اللہ کے خلاف جنگ میں مزید شدت لائیں گے۔

یہ بات امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ایک باخبر اہلکار کے حوالے سے رپورٹ کی ہے جو اس انٹیلی جنس رپورٹ سے واقف ہے۔

تل ابیب میں مایوسی

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل اس مفاہمتی معاہدے کی شقوں سے مایوسی کا شکار ہے اور اسے خدشہ ہے کہ یہ شقیں ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھنے کے اس کے وسیع تر ہدف کو کمزور کر سکتی ہیں، جیسا کہ موجودہ اور سابق امریکی حکام نے بتایا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ یہ معاہدہ حزب اللہ کے خلاف دفاع کے لیے اس کی صلاحیتوں کو محدود کر سکتا ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ معاہدہ اسرائیل کو حزب اللہ کے حملوں کے جواب میں کارروائی سے نہیں روکتا اور ان کے مطابق نیتن یاہو کے خدشات کے مقابلے میں زیادہ اہمیت اس بات کو حاصل ہے کہ معاہدہ مکمل ہو تاکہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جا سکے اور عالمی معیشت کو ممکنہ بحران سے بچایا جا سکے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لبنان میں لڑائی روکنے یا اسرائیلی افواج کے انخلا کو اسرائیل میں نیتن یاہو کی شکست کے طور پر دیکھا جائے گا۔

اس انٹیلی جنس جائزے پر ردعمل دیتے ہوئے ایک سینئر اسرائیلی حکومتی اہلکار نے کہا کہ لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں صرف اور صرف اسرائیلی شہریوں کو حزب اللہ کے مسلسل حملوں سے بچانے کے لیے ہیں۔یہ جائزے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں ،جب اسرائیل کی رائے عامہ بڑی حد تک حزب اللہ کے خاتمے کے حق میں ہے۔

ہزاروں اسرائیلی جو شمالی سرحدی علاقوں سے حزب اللہ کے حملوں کے باعث بے گھر ہوئے، وہ نیتن یاہو سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ حزب اللہ کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔

مئی میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق تقریباً 70 فیصد اسرائیلی یہودی حزب اللہ کے خلاف جنگ میں شدت کے حامی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی لبنان سے کسی بھی قسم کا انخلا اسرائیلی ووٹرز اسے شکست کے طور پر دیکھیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں