لبنان کے ساتھ فائر بندی معاہدہ ، اسرائیلی وزرا کے ملے جلے رد عمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیل اور لبنان کے بیچ امریکا کی سرپرستی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر عمل شروع ہونے کے بعد اسرائیل کے وزیر خزانہ بتسلیل سموترچ نے انکشاف کیا ہے کہ انھوں نے منگل کی شام ہونے والی ووٹنگ میں معاہدے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

سموترچ نے یہ بات آج بدھ کو علی الصباح "ایکس" پلیٹ فارم پر اپنی ایک پوسٹ میں کہی۔ ان کے مطابق "یہ معاہدہ شاید ہمیشہ کے لیے اسرائیل کے امن کا ضامن بن جائے"۔

دوسری جانب اسرائیل کے سیکورٹی کے وزیر ایتمار بن گوئر نے معاہدے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی وزیر نے اسے ایک تاریخی غلطی قرار دیا۔ معلوم رہے کہ بن گوئر کی دائیں بازو کی شدت پسند جماعت "اوتزما يہوديت" معاہدے کی منظوری پر احتجاجا حکومت سے الگ نہیں ہوئی۔

بن گوئر نے منگل کی شام "ایکس" پلیٹ فارم پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ "یہ فائر بندی نہیں بلکہ سکون کے بدلے سکون کے مفہوم کی جانب واپسی ہے، ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ یہ چیز کہاں لے جاتی ہے"۔

انھوں نے اسرائیلی فوج کی ایک بار پھر لبنان واپسی کی توقع ظاہر کی ہے۔

بن گوئر کے نزدیک اس مرحلے پر فائر بندی سے شمال کے اسرائیلی شہریوں کی اپنے گھروں کو واپسی ہو سکے گی اور نہ یہ حزب اللہ کو روک سکے گی ... بلکہ یہ فائر بندی تنظیم کو طاقت سے نشانہ بنانے اور اسے جھکنے پر مجبور کرنے کا ایک تاریخی موقع ضائع کر دے گی۔

امریکی سرپرستی میں طے پانے والے فائر بندی معاہدے کے مطابق لڑائی کو ابتدائی طور پر دو ماہ کے لیے روکا جائے گا۔ اس دوران میں حزب اللہ کو جنوبی لبنان سے چلا جانا ہو گا۔ اسی طرح لبنانی سرحدوں پر جن دیہات میں اسرائیلی فوج داخل ہو گئی تھی وہاں سے اس کا بتدریج انخلا عمل میں آئے گا۔ اس کے علاوہ ہتھیاروں کی اسمگلنگ روکی جائے گی اور اسلحے کی خریداری کو لبنانی ریاست اور مسلح افواج کے ہاتھوں تک محدود کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں