متحدہ عرب امارات میں یہودی ربی کی ہلاکت : مشتبہ افراد ترکیہ سے گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ترکیہ کی پولیس نے منگل کے روز استنبول میں تین افراد کو حراست میں لیا ہے۔ جن کے بارے میں شبہ ہے کہ انہوں نے 28 سالہ یہودی ربی زوی کوگان کو تقریباً ایک ہفتہ پہلے قتل کر دیا تھا۔

28 سالہ یہودی ربی متحدہ عرب امارات میں مقیم ہو کر یہودی مبلغ اور یہودی کمیونٹی کے خدمت گزار کے طور پر ایک ادارے کی خلیجی ممالک کے لیے سربراہی کر رہے تھے کہ جمعرات کے دن سے لاپتہ ہوگئے۔ جس کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے ان کے لاپتہ ہونے سے متعلق عرب امارات کی حکومت سے رابطہ کیا۔

متحدہ عرب امارات کی حکومت نے بعدازاں اس اسرائیلی شہری یہودی ربی کی تلاش کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کر دیا اور لاپتہ ہونے کے سلسلے میں تحقیقات کا اعلان کیا۔

تاہم اگلے ہی روز اس اسرائیلی شہری کی لاش مل گئی جسے بذریعہ طیارہ اسرائیل بھیج دیا گیا۔ جہاں یروشلم میں اس کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اس واقعے کو یہود دشمنی سے تعبیر کیا ہے۔

اماراتی حکام نے اتوار کے روز بتایا تھا کہ تین مشتبہ افراد اس کی حراست میں ہیں جن پر شبہ ہے کہ انہوں نے کوگان کو قتل کیا ہے۔ تاہم امارات کے حکام نے ان تین افراد کے بارے میں اور ان کی گرفتاری کہاں سے ہوئی اس بارے میں اتوار کے روز تک کچھ نہیں بتایا تھا۔

بعد ازاں معلوم ہوا کہ یہ تینوں افراد ازبکستان سے یہاں آئے تھے۔ جو اس واقعے کے بعد ترکیہ چلے گئے۔ جہاں انہیں ترکیہ کی پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ مگر گرفتاری اور مبینہ گرفتار ملزمان کے حوالے سے زیادہ تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ ان تین افراد کو ترکیہ کی نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن اور ترک پولیس نے گرفتار کیا ہے۔

انہیں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ استنبول اترنے کے بعد ایک ٹیکسی میں سوار تھے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں متحدہ عرب امارات کے حوالے کر دیا گیا جہاں پر اسرائیلی شہری کے قتل کا واقعہ ہوا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں