شام میں موجودہ انتشار قرارداد 2254 پر عمل درآمد میں ناکامی کا نتیجہ ہے: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

گذشتہ دنوں کے دوران شمالی شام میں سامنے آنے والی ڈرامائی پیش رفت پر اقوام متحدہ نے صورت حال کی سنگینی کے بارے میں انتباہ جاری کیا ہے۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی گیئر پیڈرسن نے اتوار کے روز خبردار کیا کہ موجودہ لڑائی کے "علاقائی اور بین الاقوامی امن کے لیے سنگین نتائج ہوں گے"۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ "آج ہم شام میں جو کچھ دیکھ رہے ہیں یہ دراصل سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 پر عمل درآمد میں ناکامی کا نتیجہ ہے۔

منغ بیس

اقوام متحدہ کی طرف سے یہ انتباہات ھیۃ تحریر الشام جسے پہلے النصرہ فرنٹ کہا جاتا تھا اور مسلح دھڑوں کے حلب شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سامنے آئے ہیں۔

حکومت مخالف جنگجوؤں نے حلب اور دمشق کو ملانے والی مرکزی شاہراہ ’ایم فائیو‘ کوبند کردیا ہے۔ اس کے علاوہ منغ ملٹری ایئربیس پربھی حکومت مخالف عسکریت پسندوں کا کنٹرول قائم اور کوریس شہر اور اس کے فوجی بیس پر بھی جنگجوؤں نے کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

ان دھڑوں نے ادلب پر بھی اپنے مکمل کنٹرول کا اعلان کیا اور حماۃ کے دیہی علاقوں میں درجنوں دیہات مزید آگے بڑھنے کا عزم کیا۔

دوسری جانب شامی فوج نے ادلب میں ان دھڑوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس نے حماۃ کی جانب مزید فوجی کمک بھیجی ہے۔

شامی فوج نے حماۃ کے تمام علاقوں سے جنگجوؤں کو نکال باہر کرنے کا بھی عزم کیا ہے۔

حلب کا منظر
حلب کا منظر

جب کہ روس اور ایران نے اس پیش رفت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ترکیہ کا کہنا ہے اس کا حلب پر حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

قابل ذکر ہے کہ قرارداد 2254 میں شام میں برسوں سے جاری جنگ کے حل کے لیے اقوام متحدہ کے ذریعے سیاسی عمل شروع کرنے اور 6 ماہ کے اندر قابل اعتبار اتھارٹی اور حکومت قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جس میں تمام فریقوں کی نمائندگی پر زور دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں