ترکیہ کے زیر سرپرستی ایتھوپیا اور صومالیہ کے درمیان مفاہمت، کیا اس سے مصر متاثر ہوگا؟

مفاہمت سے صومالیہ میں اقوام متحدہ کے مشن کے اندر مصری افواج کی موجودگی متاثر نہیں ہوگی: مصری ماہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ترک صدر رجب ایردوآن نے بدھ کو اپنے بیان میں کہا کہ "قرن آفریقہ کے دو پڑوسی صومالیہ اور ایتھوپیا، جو کہ صومالی لینڈ کے الگ ہونے والے علاقے پر اختلاف رکھتے ہیں، اپنے تنازع کو حل کرنے کے لیے ایک مشترکہ اعلامیہ پر متفق ہو گئے" ۔ انہوں نے اس معاملے کو تاریخی مفاہمت قرار دیا ہے۔ ان کے اس بیان پر کئی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

مصری فوجی اور سٹریٹجک ماہر اور کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کے مشیر میجر جنرل اسامہ محمود کبیر نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ اور ’’الحدث ڈاٹ نیٹ" کو اپنی خصوصی گفتگو میں کہا ہے ترکیہ کی سرپرستی میں صومالی- ایتھوپیائی مفاہمت کے حوالے سے یہ ایتھوپیا کے لیے اہم ہے کہ اس نے مفاہمتی معاہدے پر دستخط کیے کیونکہ اسے اس مفاہمت کی یادداشت کے نقصان یا ختم ہونے کی فکر تھی۔ اس مفاہمت پر اس نے تقریباً 3 ماہ قبل صومالی لینڈ پر دستخط کیے تھے۔ اس کے تحت صومالی لینڈ صومالیہ کی آزادی کو تسلیم کرتا ہے۔ اسے ایک غیر قانونی سفارتی اقدام اور ریاست صومالیہ کے اندرونی معاملات میں صریح مداخلت سمجھا جاتا تھا۔ بحیرہ احمر کے ساحل کے ایک ٹکڑے پر قبضے کے بدلے میں 20 کلومیٹر طویل ایتھوپیا کو بلاشبہ پرتشدد اپوزیشن شخصیت عبدالرحمٰن محمد عبداللہ کی فتح کے بعد یہ موقع ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔

تعطل سے نکلنے کا مناسب طریقہ

مصری ماہر نے کہا کہ یہ معاملہ غالباً موسیٰ بیہی کے تمام فیصلوں کو الٹ اور کالعدم کر دے گا ان میں سب سے اہم سمندری ساحل کا وہ ٹکڑا ہے جس کا ابی احمد خواب دیکھتا ہے ۔ یہاں سے ابی احمد، جو نتائج کا حساب لگائے بغیر اپنی پالیسیوں میں جلدی کرنے کے لیے جانا جاتا ہے، وہ اپنے فیصلوں کے نتائج کو درست کرنے کے لیے ایک نیا راستہ تلاش کر رہا ہے۔ مصری عسکری ماہر نے نشاندہی کی ہے کہ صومالیہ کی ریاست کے لیے یہ معاہدہ تمام معاملات میں اس کے عمومی مفاد میں ہے اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد سب سے اہم ہیں جن میں سے ایتھوپیا کی جانب سے صومالی لینڈ کو مبینہ طور پر تسلیم کرنے کی طرف واپسی ہے۔

ترکیہ کی سفارتی کامیابی

جہاں تک ترکیہ کا تعلق ہے اسے اپنی غیر ملکی سفارتکاری کے لیے ایک کامیابی سمجھا جار ہا ہے۔ خاص طور پر اس خطے میں ترکوں کے جغرافیہ کی حساسیت کے تناظر میں یہ کامیابی ہے۔

ترکیہ کے لیے یہ کامیابیاں صومالیہ کی رضامندی سے ترکوں کو بحیرہ احمر میں صومالیہ کی معیشت میں گیس کے ذرائع تلاش کرنے کا حق دیں گی۔

جہاں تک مصر کا تعلق ہے تجزیہ کار نے کہا کہ میرے خیال میں یہ معاملہ صومالیہ میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے اندر مصری افواج کی موجودگی کو متاثر نہیں کرتا ہے۔ یہ ایک مختلف معاملہ ہے اور اس کی نگرانی اقوام متحدہ کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں