شام میں مفرور سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کو 11 دن گذر چکے ہیں۔ بشارالاسد رجیم کے آہنی شکنجے سے نجات پانے کے بعد شامی عوام سکون کا سانس لے رہے ہیں۔ بازاروں اور تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کو خوشی سے سرشار دیکھا جا رہا ہے۔
رنگین شام، اذان کی صدا اور چرچ کی گھنٹیوں کی آواز سے عادی لوگ تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود خوف کا سامنا کر رہے ہیں، مگر وقت گذرنے کے ساتھ ان کا خوف کم ہو رہا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ٹیم نے دارالحکومت دمشق کی سڑکوں کا دورہ کیا۔ اس نے لوگوں کے حالات، آراء اور اور تاثرات معلوم کیے۔
یونیورسٹیوں کے مناظر
دمشق یونیورسٹی میں ایک نوجوان کی خوشی اس کی پریشانیوں سے زیادہ دیکھی جا رہی تھی۔ اس نے کہا کہ شام میں گرفتاریوں اور جبری بھرتی کے دوران بدترین مراحل گزر چکے ہیں۔ حفاظت آہستہ آہستہ علاقوں میں لوٹ رہی ہے۔
فیکلٹی آف انفارمیشن کے طالب علم نے مزید کہا کہ حال ہی میں جاری کیے گئے فیصلوں کو عملی شکل دینے کے لیے مزید وقت درکار ہے، کیونکہ کامیابی جلد بازی میں نہیں آتی۔
ایک اور طالبہ نے کہا کہ وہ اپنی یونیورسٹی کی زندگی کو معمول کے مطابق گزار رہی ہے۔ نقل و حمل میں کچھ بہتری آئی ہے۔
اس نے مزید کہا کہ وہ مکمل تبدیلی دیکھنے سے قاصر ہیں، کیونکہ 11 دن کافی وقت نہیں ہے۔
اس نے طبی عملے کی کمی کے بارے میں بھی شکایت کی، کیونکہ ڈاکٹر ابھی تک کام پر واپس نہیں آئے ہیں۔
شہری آزادیوں کے بارے میں پوچھےگئے سوال پر اس نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں تعلیمی عمل کی واپسی کے بعد سے وہ کسی پریشان کن صورتحال کا شکار نہیں ہوئیں۔
دندان سازی کی ایک اور طالبہ نےکہا کہ اس نے یونیورسٹی میں لباس یا رویے میں مداخلت کے حوالے سے کوئی واقعہ نہیں دیکھا۔ حالات معمول پر آ رہے ہیں، لیکن ملک کو زلزلے جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسے نکلنے کے لیے ایک مدت کی ضرورت ہے۔
ایک مال میں مسلح افراد
جب العربیہ کی ٹیم دارالحکومت دمشق کے مالکی محلےکی ایک اہم ترین تجارتی عمارت میں منتقل ہوئی وہاں ایک بیوٹی سیلون میں کام کرنے والی ایک کارکن نے نشاندہی کی کہ مسلح افراد کی موجودگی اسے سب سے زیادہ پریشان کرتی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ دارالحکومت کے سب سے پرتعیش مال کے اندر مسلح عناصرکا اسلحہ کے ساتھ دکانوں کے درمیان گھومنا غیر منطقی ہے۔
اس نےانکشاف کیا کہ مال کے سپر مارکیٹ میں اس کا سامنا ایک داڑھی والے غیر ملکی سے ہوا۔ ہتھیاروں اور مسلح افراد کی موجودگی میں شاپنگ ایک اجنبی اور ناقابل قبول منظر تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے اقدامات ان کے نقطہ نظر سے اچھے نہیں ہیں۔
مردو زن کے اختلاط کی مخالفت
مشہور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی سیریاٹیل کے ایک ملازم نے بتایا کہ وقفے کے وقت جب مرد اور خواتین ملازمین کمپنی کے صحن میں تھے ملٹری آپریشن ڈیپارٹمنٹ کے ارکان اندرآئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ نے فوری طور پر عورتوں اور مردوں کو الگ الگ ہونے اور مخلوط انداز میں بیٹھنے سے منع کرنے کا کہا۔ ملازم نے کہا کہ ہم نے اہلکار کے رویے پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
ایک اور واقعے میں ایک عینی شاہد نے بتایا کہ جب وہ اپنے دوستوں کے ساتھ القصور علاقے کے ایک ریسٹورنٹ کے اندر رات کا کھانا کھا رہی تھی جس میں الکحل مشروبات اور گانے پیش کیے جاتے تھے تو ملٹری آپریشن ڈیپارٹمنٹ کی ایک بھاری مسلح فورس بھی داخل ہوئی اورفوری طور پرموسیقی بند کرنے کا کہا۔
اس نے مزید کہا کہ اہلکاروں نے ان کے ساتھ مفاہمت تک پہنچنے اور انہیں جگہ سے ہٹانے اور ہتھیاروں کو چھوڑنے کی کوشش کی۔ اس نے کہا کہ ہم لوگ وہاں سے نکل جانے پرمجبور ہوئے۔
اسد رجیم کے سقوط کے11 دن
قابل ذکر ہے کہ العربیہ ڈاٹ نیٹ کی طرف سے انٹرویو کرنے والے ہر فرد نے درخواست کی کہ ان کے نام ظاہر نہ کیے جائیں۔
آٹھ دسمبر سے حکومت کے خاتمے اور بشار الاسد کی ماسکو روانگی کے فوراً بعد سے 13 سال سے زائد عرصے سے خونریز خانہ جنگی کےشکار شام میں تیزی سے سیاسی حالات آگے بڑھ رہے ہیں۔
اسپاٹ لائٹ "نئے حکمرانوں" پر بھی تھی جیسا کہ انہیں "ملٹری آپریشن ڈیپارٹمنٹ" کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔اس میں "ھیۃ تحریر الشام" پیش پیش ہے۔