امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن غزہ میں 14 ماہ سے جاری جنگ کے حوالے سے جنگ بندی معاہدے کی آج بھی امید رکھتے ہیں ۔ مگر نہیں سمجھتے کہ ان کی یہ امید پوری ہونے میں ابھی اور کتنا وقت درکار ہوگا۔
امریکہ کے اعلی ترین سفارتی عہدے دار پچھلے ساڑھے چودہ ماہ سے یہ امید ظاہر کر رہے ہیں کہ غزہ میں جنگ بندی ہو گی اور انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل میں بہتر کی جائے۔
سات اکتوبر 2023 سے جاری اس جنگ کے دوران اب تک انٹونی بلنکن نے کم از کم دس بار اسرائیل سمیت مشرق وسطی کا دورہ کیا ہے۔ لیکن ان کے یہ سارے دورے ابھی تک جنگ بندی کے لیے کارگر ثابت نہیں ہو سکے ہیں۔
اس جنگ کے ذریعے اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر موجود عمارات کی غالب تعداد کو اور گھروں کو ملبے کے ڈھیروں میں بدل دیا ہے۔ جبکہ کم از کم 19 لاکھ کی تعداد میں فلسطینیوں کے گھر تباہ کر کے اسے نقل مکانی پر مجبور کردیا گیا ہے۔ یہ نقل مکانی کرنے والی آبادی 90 فیصد کے قریب ہے۔
اب جبکہ امریکہ میں نو منتخب صدر کے باضابطہ وائٹ ہاؤس کو سنبھالنے میں محض بیس دن باقی ہیں بظاہر بطور وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا مشرق وسطی کا آخری دورہ اسی ماہ ہوا ہے۔ جس کے بعد انہوں نے پھر امید ظاہر کی ہے کہ غزہ جنگ بندی ہوگی۔ اس کے باوجود ایک ماہ قبل امریکہ نے سلمتی کونسل میں جنگ بندی قرارداد کو چوتھی بار ویٹو بھی کیا ہے۔