سعودی عرب اس سال موسم سرما کی بے مثال لہر کا سامنا کرنے کی تیاری کر رہا ہے کیونکہ ماہرین موسمیات نے درجہ حرارت میں تیزی سے کمی کے بارے میں خبردار کر دیا ہے۔ اس سردی سے دن کے اوقات میں خاص طور پر سکول جانے والے بچے متاثر ہو سکتے ہیں۔
ماہر موسمیات ڈاکٹر خالد بن صالح الزعاق نے اس ہفتے کے دوران سردیوں کے بھاری کپڑے پہننے کی ضرورت کی طرف اشارہ کیا۔ خاص طور پر ان بچوں کے لیے جو صبح سویرے سکول جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم تقریباً پورا ہفتہ سردیوں کا موسم دیکھیں گے۔
سردی کی لہر کا ماحول پر اثر
ڈاکٹر الزعاق نے ہفتہ کو اپنی تقریر میں واضح کیا کہ سردی کی پہلی لہر نے ماحول کو نمایاں طور پر متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس ہفتے گھروں میں سردی ہوگی اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کو خاص طور پر صبح اور رات کے اوقات میں گھروں سے نکلنے سے پہلے اچھی طرح سے گرم کیا جائے۔
انہوں نے یہ بھی سفارش کی کہ والدین اپنے بچوں کو ہفتے کے تمام دنوں میں سردیوں کے بھاری کپڑے فراہم کریں۔ اس سردی کو کم نہ سمجھا جائے کیونکہ یہ سردی سورج کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
گھروں کو گرم کرنے کی اہمیت
انہوں نے گھروں کو گرم کرنے اور موزے اور اونی قمیضوں سمیت بھاری کپڑے پہننے کا مشورہ دیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ بچے اور خاندان کے افراد اس سرد موسم میں گرمی کو برقرار رکھیں ۔ انہوں نے ہر ایک کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
موسم سرما کا آغاز
اسی تناظر میں موسمیاتی پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ المسند نے موسم سرما کے آغاز کا انکشاف کرتے ہوئے پلیٹ فارم ’’ ایکس‘‘ پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے ایک ٹویٹ میں اشارہ کیا کہ ریاض میں آج کا دن 21 جون کے دن کے مقابلے میں تین گھنٹے اور چار منٹ چھوٹا ہے۔ آج سال کی طویل ترین رات اور سب سے چھوٹا دن ہے۔
موسم سرما کی تفصیلات
المسند نے کہا کہ آج کا دن سورج کی ظاہری حرکت کے مطابق سردیوں کے موسم کے آغاز کی نمائندگی کر رہا ہے۔ سردی کا موسم 89 دن تک جاری رہے گا۔ آج سورج اور زمین کے درمیان فاصلہ تقریباً 147,172,000 کلومیٹر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خط استوا کے شمال میں دن کا وقت اس عرصے کے دوران سب سے چھوٹا ہوتا ہے۔ انہوں نے 1993 کے ایک واقعے کو یاد کیا جب ریاض میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت صرف 8 ڈگری ریکارڈ کیا گیا تھا۔
سردی کی نئی لہر کی توقع
موسم اور آب و ہوا کے محقق عبدالعزیز الحصینی نے بھی آنے والے دنوں میں تیسری قطبی سردی کی لہر کی توقع کی اطلاع دی ہے جس سے سعودی عرب اور خلیج کے بہت سے علاقے متاثر ہوں گے۔ انہوں نے ’’ ایکس‘‘ پر کہا کہ درجہ حرارت 5 سے 9 ڈگری سیلسیس کے درمیان تک گر جائے گا۔
سکول کے دن
انہوں نے مزید کہا کہ سردی کی یہ لہر سکول کے دنوں کے ساتھ موافق ہوگی۔ اس سے شمالی، وسطی، مشرقی علاقوں اور مملکت کے پہاڑی علاقوں کے ساتھ ساتھ خلیجی علاقے بھی متاثر ہوں گے۔ اتوار سے شروع ہونے والی لہر پیر کو عروج پر ہوگی۔