پاکستانی مصنفہ بیپسی سدھوا امریکہ میں انتقال کر گئیں

آنجہانی گجراتی پارسی زرتشتی نسل کی ایک مشہور پاکستانی ناول نگار تھیں، جو انڈو -کینیڈین فلم ساز دیپا مہتا کے ساتھ اپنے اشتراکی کام کے لیے مشہور تھیں۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

پاکستان کی معروف انگریزی ناول نگار بیپسی سدھوا ہیوسٹن، امریکہ میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں۔ ان کی عمر 86 سال تھی، وہ 11 اگست 1938ء کو پیدا ہوئی تھیں۔

بیپسی سدھوا کے اہل خانہ کے مطابق آنجہانی کی آخری رسومات تین دن بعد ہیوسٹن میں ہی ادا کی جائیں گی۔

آنجہانی گجراتی پارسی زرتشتی نسل کی ایک مشہور پاکستانی ناول نگار تھیں، جو انڈو -کینیڈین فلم ساز دیپا مہتا کے ساتھ اپنے اشتراکی کام کے لیے مشہور تھیں۔

بیپسی سدھوا کا ادبی کیریئر کئی دہائیوں پر محیط تھا، جس میں قابل ذکر کام شامل ہیں جن میں "دی کرو ایٹرز"، "دی برائیڈ"، "آئس کینڈی مین"، "کریکنگ انڈیا" کے نام سے بھی شائع ہوا)، اور "این امریکن براٹ"۔ شامل ہیں۔

ان کے فکشن کے موضوعات شناخت، ثقافت اور سماجی مسائل تھے جو ہندوستانی اور پاکستانی تاریخ، سیاست اور ثقافت پر ایک منفرد تناظر فراہم کرتے ہیں۔

سدھوا کے ناول "آئس کینڈی مین" کو بی بی سی نے نئی دنیا کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والے 100 بہترین ناولوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

بیپسی سدھوا کو ادب میں ان کی خدمات کے لیے متعدد ایوارڈز اور اعزازات ملے، جن میں 1991 میں فنون میں پاکستان کا سب سے بڑا قومی اعزاز ستارہ امتیاز بھی شامل ہے۔

بیپسی سدھوا کا سوانحی خاکہ

پاکستان میں انگریزی میں ادب تخلیق کرنے والے ناول نگاروں اور افسانہ نگاروں کی فہرست زیادہ طویل تو نہیں ہے، لیکن جب بھی اس پہلو سے بات نکلتی ہے تو اس میں سب سے نمایاں اور ابتدائی نام’’بیپسی سدھوا‘‘ کا ہے، جنہوں نے 70 کی دہائی کے آخری برسوں میں ناول نگاری کی ابتداکی اور اب تک فعال ہیں۔ ’’بیپسی سدھوا‘‘ 1938 میں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پیدا ہوئیں۔

ان کا تعلق گجراتی پارسی گھرانے سے تھا، کچھ عرصے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ لاہور منتقل ہو گئیں، پھر زندگی کا ایک طویل حصہ لاہور میں ہی گزارا۔ 1957 کو لاہور میں خواتین کے مشہور کالج ’’کنیئرڈ کالج‘‘ سے گریجویشن کیا۔ 1947 میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا، تو اس وقت ان کی عمر نو سال تھی۔ ان کی پہلی شادی ناکام رہی، البتہ دوسری شادی کے بعد خوشگوار ازدواجی زندگی کا سفر شروع کیا۔ تین بچوں کی پرورش کے ساتھ ناول نگاری کی ابتدا بھی کی۔

سدھوا کے حوالے سے روزنامہ جنگ میں خرم سہیل کے تحریر کردہ سوانحی خاکے کے مطابق آنجہانی مصنفہ نے ہمیشہ انگریزی زبان میں لکھنے کو ترجیح دی، لیکن عام زندگی میں اپنی مادری زبان گجراتی اور قومی زبان اردو بولنے کو ترجیح دی۔ 1982 سے وہ اپنے خاندان کے ہمراہ امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں رہائش پذیر تھیں۔ وہاں لکھنے پڑھنے کے ساتھ ساتھ تدریس کے پیشے سے وابستہ رہیں، متعدد امریکی جامعات میں تدریس کے فرائض انجام دیے، جن میں ہیوسٹن یونیورسٹی، کولمبیا یونیورسٹی اور دیگر شامل ہیں۔کئی امریکی جامعات میں ان کا پہلا ناول ’’آئس مین کینڈی‘‘ بطور نصاب بھی شامل ہے۔

دو ہزار بیس میں’’بیپسی سدھوا‘‘ کی زندگی پر ایک دستاویزی فلم تیار کی جا رہی تھی، جس کو انہوں نے خود ہی لکھا ہے اور اس میں اپنی زندگی کے بارے میں گفتگو بھی کی تھی۔ اس کو ہم ان کی ویڈیو بائیوگرافی بھی کہہ سکتے ہیں۔

ان کی تخلیقی زندگی پر ایک نظر ڈالی جائے تو ستر کی دہائی کے آخری برسوں میں اپنے ادبی سفر کی شروعات کیں۔ ان کا پہلا ناول’’کروایٹرز‘‘ تھا، اس کے بعد’’برائڈ‘‘ شائع ہوا، پھر ’’آئس کینڈی مین‘‘ چھپا، جس کا مرکزی خیال ہندوستان کی تقسیم اور قیام پاکستان تھا۔

انہوں نے تقسیم کے دنوں کی جو بھی پرچھائیاں ان کے دل و ذہن پر تھیں، ان کو رقم کیا، اپنے ذاتی تجربات سے بھی ناول کے کرداروں میں رنگ بھرے، ہم کہہ سکتے ہیں، اس ناول میں ان کی سوانح بھی جھلکتی ہے، جس کے ذریعے اس وقت کے لاہور کو محسوس کیا جا سکتا ہے، اس خطے کے رہنے والوں کی ذاتی زندگیوں پر تقسیم سے کیا اثرات مرتب ہوئے، کیا تبدیلیاں آئیں، ان باریکیوں کو یہ ناول بیان کرتا ہے۔

اپنے طویل ادبی کیرئیر میں’’بیپسی سدھوا‘‘ کچھ نہ کچھ لکھتی رہتی ہیں، جس میں ان کے ناول، مختصر کہانیاں، مضامین اور بلاگز شامل ہیں۔ لاہور کی زندگی کو یادکرتے ہوئے انہوں نے کچھ تحریریں لکھیں، ان تحریروں کا مجموعہ 2006 میں شائع ہوا۔ 2013 میں ان کی انگریزی کہانیوں کا نیا انتخاب’’دیئر لینگونج آف لوّ‘‘ بھی ریڈنگز بکس، لاہور نے شائع کیا، جبکہ اسی ناشر نے 2012 میں ان کے معروف ناول’’کروایٹرز‘‘ کا اردو ترجمہ ’’جنگل والا صاحب‘‘جو محمد عمر میمن نے ترجمہ کیا، اس کو بھی چھاپ دیا ہے۔’’بیپسی سدھوا‘‘کی کتابیں پاکستان کے علاوہ بھارت ، امریکہ، انگلینڈ، اٹلی اور دیگر یورپی ممالک میں بھی نئے ایڈیشنز کے ساتھ شائع ہو چکی ہیں۔

ان کی مختلف کہانیوں پر امریکہ اور یورپی ممالک میں تھیٹر کے کھیل پیش کیے جا چکے ہیں۔ ان کے دو ناولوں پر دو فلمیں بھی بن چکی ہیں۔ ان کے ناول’’آئس مین کینڈی‘‘ کا ایک ایڈیشن امریکہ اور انڈیا میں ’’کریکنگ انڈیا‘‘ کے نام سے بھی شائع ہوا۔

اسی پر بھارتی نژاد کینیڈین فلم ساز’’دیپا مہتا‘‘ نے فلم’’ارتھ‘‘ بنائی، جبکہ ان کے ناول’’واٹر‘‘ پر بھی وہ مساوی نام سے فلم بنا چکی ہیں۔ اس ناول اور فلم کی حیثیت متنازع ہے، یہی وجہ ہے، پاکستان میں اسے بہت زیادہ توجہ نہیں ملی۔

’’بیپسی سدھوا‘‘ کا ناول’’آئس مین کینڈی‘‘ برطانیہ اور پاکستان میں 1988 میں شائع ہوا، اس کے بعد 1991 میں امریکہ اور 1992 میں انڈیا میں شائع ہوا۔ اس ناول کا مرکزی خیال ایک کم عمر پارسی بچی کی کہانی ہے، جو اپنا ماضی یاد کر رہی ہے اور وہ دور بھی، جب ہندوستان کی تقسیم ہو رہی تھی، وہ لاہور میں اپنے خاندان کے ہمراہ مقیم تھی، تاریخ کے اس دوراہے پر، اس کے ہاتھ سے کیا چھوٹا، اس نے کیا کھویا اور پایا، رشتوں ناطوں کے پس منظر میں کہانی کو بیان کیا ہے، جس پر مصنف کی اپنی سوانح کی چھاپ بھی موجود ہے۔

اس ناول پر بنائی گئی فلم’’ارتھ‘‘ میں معروف فنکاروں عامر خان، نندیتا داس اور راہول کھنہ نے اداکاری کی ہے، جبکہ شبانہ اعظمی کی آواز کو صداکاری کے طور پر فلم میں شامل کیا گیا ہے۔ فلم کی موسیقی معروف بھارتی موسیقار اے آر رحمان نے دی ہے۔

فلم کو پسند کیا گیا اور یہ کئی اہم اعزازات حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ ہندوستان میں تقسیم کے موضوع پر یہ اہم فلموں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے، لیکن جس طرح ناول کا تصوراتی دائرہ وسیع ہے، فلم اس ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے اور پاکستان میں اس کی نمائش بھی کبھی نہ ہو سکی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size