غیر سرکاری تنظیموں میں افغان خواتین کے کام کرنے پر طالبان کی پابندی: اقوامِ متحدہ کی مذمت
خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پہلی ہی پابندیاں ہیں
اقوامِ متحدہ کے سربراہ برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے منگل کو کہا ہے کہ افغانستان کے حکمران طالبان حکام کو غیر سرکاری تنظیموں کے لیے کام کرنے والی افغان خواتین پر پابندی کا فیصلہ واپس لے لینا چاہیے۔
اگست 2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے عوامی مقامات سے خواتین کی موجودگی بتدریج ختم کر دی گئی ہے جس نے اقوامِ متحدہ کو طالبان انتظامیہ کے قائم کردہ "جنسی امتیاز" کی مذمت کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
وولکر ترک نے ایک بیان میں کہا، "میں افغانستان میں ڈی فیکٹو حکام کے اس حالیہ اعلان پر سخت پریشان ہوں کہ اگر غیر سرکاری تنظیمیں افغان خواتین کو ملازمت دیتی رہیں تو ان کے لائسنس منسوخ کر دیئے جائیں گے۔ یہ بالکل غلط راستہ ہے۔"
انہوں نے کہا کہ جمعرات کو ایک خط میں طالبان کی وزارتِ اقتصادیات نے قومی اور بین الاقوامی این جی اوز کو حکم دیا کہ وہ دو سال قبل جاری کردہ ایک حکمنامے کی تعمیل کریں جس کے تحت انہیں افغان خواتین کو ملازمت دینے سے روک دیا گیا ہے۔
ترک نے کہا، "افغانستان میں انسانی صورتِ حال بدستور تشویشناک ہے جہاں نصف سے زیادہ آبادی غربت میں زندگی گذار رہی ہے۔ افغان خواتین، مردوں، لڑکیوں اور لڑکوں کو زندگی بچانے والی اہم امداد فراہم کرنے میں غیر سرکاری تنظیمیں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور یہ اقدام آبادی کی انسانی امداد حاصل کرنے کی قابلیت کو براہِ راست متأثر کرے گا۔"
نیز انہوں نے کہا، "میں دوبارہ افغانستان کے ڈی فیکٹو حکام پر زور دیتا ہوں کہ وہ گہرے امتیاز کا حامل یہ فرمان اور دیگر تمام اقدامات منسوخ کر دیں جن کا مقصد تعلیم، کام اور صحت سمیت عوامی خدمات تک خواتین اور لڑکیوں کی رسائی ختم اور ان کی نقل و حرکت کی آزادی کو محدود کر دینا ہے۔ کوئی بھی ملک اپنی نصف آبادی کو عوامی زندگی سے باہر رکھ کر سیاسی، معاشی یا سماجی طور پر ترقی نہیں کر سکتا۔ افغانستان کے مستقبل کے لیے ڈی فیکٹو حکام کو اپنا راستہ بدلنا چاہیے۔"
طالبان حکام نے لڑکیوں اور خواتین کے لیے پرائمری کے بعد کی تعلیم پر پابندی عائد کر دی ہے، روزگار کو محدود کر دیا اور پارکوں اور دیگر عوامی مقامات تک ان کی رسائی کو روک دیا ہے۔
طالبان حکومت نے شریعت کا جو انتہائی سخت نفاذ کیا ہے، اس کے تحت ایک حالیہ قانون خواتین کو عوامی طور پر گانے یا شاعری کرنے سے منع کرتا ہے۔ یہ انہیں گھر سے باہر اپنی آوازوں اور جسم کو "پردے" میں رکھنے کی بھی ترغیب دیتا ہے۔
کچھ مقامی ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینلز نے بھی خواتین کی آوازیں نشر کرنا بند کر دی ہیں۔
طالبان انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ اسلامی قانون افغان مردوں اور عورتوں کے حقوق کی "ضمانت" دیتا ہے۔