نیو اورلینز کے حملہ آور امریکی فوجی شمس الدین بحر جبار تھا، پہلی تصویر آگئی

رائفل سے لیس ٹیکساس کے بحر جبار نے داعش کا جھنڈا اٹھا رکھا تھا: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

امریکہ کے علاقے نیو اورلینز میں ٹرک لوگوں پر چڑھا کر 10 افراد کو ہلاک اور 36 کو زخمی کرنے والے حملہ آور کی پہلی تصویر سامنے آگئی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق حکام نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ حملے کے مرتکب شخص کا نام شمس الدین بحر جبار ہے جس کا تعلق ہیوسٹن ٹیکساس سے تھا۔ اس کی عمر 42 سال تھی۔ سی این این نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بحر جبار نے داعش کا جھنڈا اٹھا رکھا تھا۔

وائٹ ہاؤس نے اطلاع دی ہے امریکی صدر جو بائیڈن کو نیو اورلینز میں گاڑی ٹکرانے کے واقعے کی تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا کہ وہ مدد فراہم کرنے کے لیے نیو اورلینز کے میئر سے رابطے میں ہے۔ ایف بی آئی تحقیقات میں قانون نافذ کرنے والوں کی مدد کے لیے جائے وقوعہ پر ہے۔ جو بائیڈن بھی دن بھر اس واقعے پر بریفنگ حاصل کرتے رہے ہیں۔

امریکی حکام نے بتایا کہ حملہ آور مارا گیا ہے ۔ وہ جیسے ہی اپنے ٹرک سے باہر نکلا تو مار دیا گیا تھا۔ اس کے پاس اسالٹ رائفل تھی۔ نیو اورلینز پولیس ڈیپارٹمنٹ اور مقامی حکام نے حملہ آور کی شناخت ظاہر نہیں کی تاہم انہوں نے اس حملے کو دہشت گردانہ حملہ قرار دیا۔ فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کا کہنا ہے کہ وہ اس حملے کی دہشت گردی کی کارروائی کے طور پر تحقیقات کر رہا ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ حملہ آور قتل عام کا ارادہ رکھتا تھا۔

نیو اورلینز میں پولیس نے تصدیق کی ہے کہ پک اپ ٹرک ڈرائیور جس نے بدھ کے روز امریکی شہر میں نئے سال کا جشن منانے والوں کے ایک ہجوم سے اپنی ٹرک ٹکرا دیا تھا نے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بھگانے کی کوشش کی تھی۔ پولیس اہلکار این کرک پیٹرک نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حملہ آور ڈرائیور قتل عام کرنے کا بہت ارادہ رکھتا تھا۔

قبل ازیں سی بی ایس نیوز نے عینی شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا تھا کہ ایک ٹرک تیز رفتاری سے ہجوم سے ٹکرا گیا پھر ڈرائیور باہر نکلا اور اس نے گولی چلانا شروع کر دی۔ پولیس نے جوابی فائرنگ کر دی۔ نیو اورلینز کے میئر نے کہا ہے کہ ٹرک کی ٹکر سے ہونے والا حادثہ ایک "دہشت گردانہ حملہ" تھا۔ آپریشن کے مجرم کی فائرنگ سے دو اہلکار زخمی ہو گئے۔

مقامی میڈیا کے مطابق نیو اورلینز کے فرانسیسی کوارٹر میں بوربن سٹریٹ پر لوگوں کا ایک ہجوم نئے سال کا جشن منا رہا تھا جب ہٹ اینڈ رن کا واقعہ پیش آیا۔ سوشل میڈیا پر رپورٹس کے مطابق عینی شاہدین نے دعویٰ کیا ہے کہ مشتبہ شخص نے پورے جسم کی بکتر پہن رکھی تھی اور وہ اسالٹ رائفل سے لیس تھا۔

درجنوں پولیس افسران نے جوابی کارروائی میں حصہ لیا۔ حکام نے اسے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا واقعہ قرار دیا ۔ سڑک کا کچھ حصہ بند کر دیا گیا۔ پیرامیڈیکس، ایمبولینسز اور کورونر آفس کی گاڑیاں بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھیں۔ مقامی حکام نے مزید کہا کہ ایمبولینسوں نے زخمیوں کو علاقے کے ہسپتالوں میں منتقل کیا۔ پولیس نے واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔

ابھی تک مشتبہ شخص کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں اور یہ واضح نہیں ہے کہ اسے گرفتار کیا گیا ہے یا نہیں۔ واضح رہے بوربن سٹریٹ نیو اورلینز کے فرانسیسی کوارٹر میں اپنے بہت سے بارز اور کلبوں کے لیے مشہور ہے۔ ایک عینی شاہد نے کہا کہ ٹرک بوربن پیئر کے بائیں جانب سب کو ٹکر مار رہا تھا۔

یہ حادثہ نیو اورلینز میں سال نو کی تقریبات کے اختتام کے قریب اور امریکن کالج فٹ بال لیگ کے کوارٹر فائنل میچ کے آغاز سے چند گھنٹے قبل پیش آیا۔

لوزیانا کے گورنر جیف لینڈری نے ایکس پر کہا ہے کہ آج صبح بوربن سٹریٹ پر تشدد کا ایک خوفناک واقعہ پیش آیا ۔ انہوں نے رہائشیوں سے حملے کے علاقے سے دور رہنے کی اپیل کی۔ نیو اورلینز ڈیپارٹمنٹ آف ایمرجنسی پریپرڈنس نے کہا کہ زخمیوں کو کم از کم پانچ مختلف ہسپتالوں میں لے جایا گیا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے اطلاع دی ہے کہ یہ حادثہ نئے سال کی تقریبات کے دوران کینال اور بوربن سٹریٹس کے چوراہے پر پیش آیا۔ ایک جوڑے نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ انہوں نے سڑک کے آخری سرے سے ایک حادثے کی آواز سنی اور پھر ایک سفید ٹرک کو تیز رفتاری سے ایک رکاوٹ سے ٹکراتے دیکھا۔ نیو اورلینز میں اس سے قبل بھی گزشتہ تقریبات میں شوٹنگ کے واقعات اور گاڑیوں کے ٹکرانے کے واقعات ہو چکے ہیں۔

نومبر 2024 میں مقامی میڈیا نے بتایا کہ شہر میں ایک جشن کے دوران فائرنگ کے دو مختلف واقعات میں دو افراد ہلاک اور 10 دیگر زخمی ہو گئے تھے۔ اس وقت اس جشن میں ہزاروں افراد شریک تھے۔

فروری 2017 میں ایک پک اپ ٹرک جس چلانے والے کے بارے میں پولیس کا کہنا تھا کہ وہ بہت نشے میں تھا نے اپنا ٹرک نیو اورلینز میں ایک تہوار کا مرکزی شو دیکھنے والے تماشائیوں کے ہجوم پر چڑھا دیا تھا۔ اس واقعہ میں 20 سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں